Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Raasta tang nahi

Urdu · 3 min

راستہ تنگ نہیں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکے سے طائف جا رہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ ملا جو بظاہر تنگ تھا۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے۔

لوگوں نے بتایا کہ اس کو "تنگ راستہ" کہا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ یہ آسان راستہ ہے: "بلہی الیسراء"۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ صحیح ہے کہ بطور واقعہ یہ راستہ تنگ ہے۔ اگر ہم پھیل کر اس میں جانا چاہیں تو ہم نہیں جا سکیں گے، لیکن ہم اس طرح اس کو آسان بنا سکتے ہیں کہ ہم سمٹ کر قطار کی صورت میں اس سے گزریں۔

ایسی صورت میں راستے کی تنگی ہمارے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرانہ نگاہ یہ ہے کہ تنگی کو بھی کشادگی کے روپ میں دیکھا جائے۔ تنگی میں بھی کشادگی کا راز دریافت کیا جائے۔ منفی باتوں میں بھی مثبت پہلو تلاش کر لیے جائیں۔

تنگی بذاتِ خود تنگی ہے، راستے کی چٹان ہر حال میں چٹان ہی رہتی ہے۔ جو فرق ہے وہ خود تنگی یا چٹان میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ جب کوئی تنگ راستہ سامنے آ جائے یا چٹان حائل ہو، تو اس وقت طریقِ عمل کیا اختیار کرنا چاہیے۔ ایک طریقہ براہِ راست مقابلے کا ہے، اور دوسرا اعراض کا۔ براہِ راست مقابلے میں تنگی اور چٹان بدستور تنگی اور چٹان بنے رہتے ہیں، مگر اعراض کا طریقہ ان کے وجود کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔

جب بھی ایسا ہو کہ آپ کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیش آ جائے، تو اس سے ٹکرانے پر اپنا ذہن نہ لگائیے، بلکہ یہ سوچیے کہ رکاوٹ کو نظر انداز کر کے آپ کون سا ایسا حل پا سکتے ہیں جس کے بعد رکاوٹ اپنی جگہ باقی رہتے ہوئے بھی آپ کے لیے ایک غیر موجود چیز بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر راستہ تنگ ہی ہوتا ہے۔ تنگی اور کشادگی دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ حقیقی چیز صرف ایک ہے، اور وہ تدبیر ہے۔

اور تدبیر مکمل طور پر اور ہمیشہ مسافر کے بس میں ہوتی ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 231۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.