کائناتی کلچر میل ملاپ کوئی سادہ بات نہیں؛ وہ ہر قسم کی انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے درمیان ملنا جلنا نہ ہو، وہاں ہر ایک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ کوئی بھی شخص یا گروہ زیادہ آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ میل ملاپ، یعنی انٹریکشن، فطرت کا خانون ہے؛ وہ ساری کائنات میں ہر طرف جاری ہے۔
درخت ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تو خدا نے ان کے درمیان ہوائیں چلا دیں، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ خلا کے ستارے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں؛ ان کا آپس میں جسمانی طور پر ملنا ممکن نہیں۔ خدا نے انہیں روشنی دے دی، چنانچہ وہ روشنی کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹیوں سے جاری ہونے والے چشمے سمندر سے بہت دور تھے، مگر خدا نے ان کے لیے بہاؤ کی صورت پیدا کر دی۔
اس طرح یہ چشمے دریاؤں میں بہتے ہوئے سمندر میں جا کر مل جاتے ہیں۔ میل ملاپ ایک یونیورسل کلچر، یعنی کائناتی طریقہ ہے۔ یہی یونیورسل کلچر انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ جس طرح بقیہ کائنات کا نظام درست طور پر باہمی ہم آہنگی کے ذریعے چل رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی کا نظام بھی درست طور پر اس وقت چل سکتا ہے جبکہ انسان بھی اس کائناتی کلچر کو اختیار کرے۔
سورہ آل عمران، آیت 83: دو انسان یا زیادہ انسان جب باہم ملتے ہیں تو یہ پتھروں کا باہم ملنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایسی مخلوق کا ملنا ہوتا ہے جس کے اندر دل اور دماغ والی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کا آپس میں ملنا جلنا مختلف قسم کے عظیم فائدوں کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح باہمی محبت بڑھتی ہے۔ یہ عمل ذہنی ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔
لوگ ایک دوسرے کے تجربات سے نئی نئی باتیں سیکھتے ہیں۔ ہر فرد انسانیت کے مجموعی خزانے میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ میل ملاپ صرف ایک سماجی سلوک نہیں؛ وسیع تر معنی میں وہ زندگی کی ایک عظیم تر حکمت ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 230۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.