فطرت کا نظام کامیابی نام ہے خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری نظام سے مطابقت کرنے کا۔ یہی ایک لفظ میں زندگی کا راز ہے، خواہ وہ فرد کی زندگی کا معاملہ ہو یا سماج اور ریاست کا معاملہ۔ یہ دنیا جس میں ہم اپنے آپ کو پاتے ہیں، وہ ہم نے خود نہیں بنائی ہے، اور نہ اس کو بنانے والے نے ہمارے مشورے کے مطابق اس کو بنایا ہے۔ یہ دنیا کچھ محکم اصولوں پر بنائی گئی ہے، اور وہ انہی اصولوں کے تحت چل رہی ہے، اور اسی طرح وہ ہمیشہ چلتی رہے گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہماری حیثیت ثانوی ہے۔ ہمیں ایک طرفہ طور پر دنیا کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ موافقت نہ کرنے کی صورت میں نقصان اٹھانے والے فریق ہم خود ہوں گے، نہ کہ بقیہ دنیا۔ ایک کسان اپنے کھیت سے اسی وقت ہری بھری فصل حاصل کرتا ہے جبکہ وہ فطرت کے مقرر کیے ہوئے قانون زراعت کی کامل پابندی کرتا ہے۔
اسی طرح ایک انجینئر اسی وقت کوئی ٹیکنیکل کارنامہ انجام دیتا ہے جبکہ وہ فزکس اور کیمسٹری کے قوانین فطرت کو پوری طرح استعمال کرے وغیرہ۔ ٹھیک یہی معاملہ انسانی دنیا کا ہے۔ انسانی دنیا کے لیے بھی اسی طرح فطرت کے مقرر قوانین ہیں۔ یہاں بھی کوئی کامیابی صرف اس فرد یا قوم کے لیے مقدر ہے جو ان اصولوں کی پابندی کرے، جو فطرت نے پیشگی طور پر اس کے لیے قائم کر دیا ہے۔
کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ فطرت کے خانون کو نظر انداز کر کے اس دنیا میں اپنے لیے کامیاب زندگی کی تشکیل کر سکے۔ فطرت کے نقشے میں جو چیز محنت سے ملتی ہو، اس کو ہم رعایت کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتے۔ جو چیز صبر کا ثبوت دے کر ملتی ہو، اس کو ہم عاجلانہ اقدام کے ذریعے نہیں پا سکتے۔ جس چیز کا ملنا امن کی طاقت کے ساتھ مقدر کیا گیا ہے، اس کو ہم تشدد کی طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتے۔
جو چیز تدریج کے ذریعے ملنے والی ہو، اس کو ہم چھلانگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 229۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.