اقدام کب؟ اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول وہ ہے جس کو "سدّ الزرائے" کہا جاتا ہے، یعنی برائی پیدا ہونے والے اسباب کو روکنا۔ قرآن الانعام 108 کی ہدایت کے تحت علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ ایک جائز کام کو کرنے سے ایک زیادہ بڑی برائی پیدا ہوتی ہو، تو لازم ہے کہ مسلمان ایسے جائز کام سے باز رہیں۔ إن المحقّ يكفّ عن حقٍّ له إذا أدّى إلى ضررٍ.
الجامع لأحكام القرآن جلد 4 صفحہ 61: حق دار اپنے حق سے رکا رہے گا جبکہ وہ ایک ضرر پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اقدام صرف اس بنا پر صحیح نہیں ہو جاتا کہ بظاہر وہ حق کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے معاملے میں یہ دیکھنا لازمی طور پر ضروری ہے کہ اقدام کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ جو اقدام عملاً منفی نتیجہ ظاہر کرے، وہ ایک غیر مطلوب اقدام ہے، خواہ نظری طور پر وہ کتنا ہی زیادہ مطلوب نظر آتا ہو۔
ایک شخص اسلام کے خلاف گستاخی کرے، لیکن حالات کے اعتبار سے یہ اندیشہ ہو کہ اس کے خلاف کارروائی کرنا شدید تر برائی پیدا کرنے کا سبب بن جائے گا، تو ایسے موقع پر لازم ہوگا کہ گستاخی کے خلاف خاموشی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ ایک شخص آپ کو ایک چھوٹا نقصان پہنچائے اور حالات بتاتے ہوں کہ اس کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زیادہ بڑی برائی کا سامنا پیش آ جائے گا، تو ایسی حالت میں چھوٹی برائی کو برداشت کر لیا جائے گا تاکہ زیادہ بڑی برائی کو برداشت کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ایک شخص الاعلان آپ کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرے اور حالات کے اعتبار سے یقینی نظر آتا ہو کہ اگر آپ نے جوابی کارروائی کی تو ہنگامہ بڑھ کر جان و مال کی تباہی تک پہنچ جائے گا، ایسی حالت میں ضروری ہوگا کہ پرشور کارروائی کا جواب خاموش کارروائی کے ذریعے دیا جائے تاکہ نقصان کو اس کی ابتدائی حد پر روکا جا سکے۔ یہ اسلام کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے۔
اسلامی عمل وہی ہے جس میں اس حکمت کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہو۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 225۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.