کرائٹیرین کا مسئلہ، کرائٹیرین یعنی معیار کا مسئلہ، بے حد اہم مسئلہ ہے۔ بیشتر فکری گمراہیاں صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں کرائٹیرین واضح نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو "صحیح" سمجھ رہا ہوتا ہے، حالانکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو جانچنے کے لیے غلط کرائٹیرین استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کو درست کرائٹیرین پر جانچے، تو وہ جان لے گا کہ اس کی سوچ 70% غلط ہے۔
مثال کے طور پر، خلیفہ اول حضرت ابوبکر نے جب حضرت عمر فاروق کو امیرالمومنین مقرر کیا، تو بیشتر صحابہ اس رائے سے اتفاق نہ کر سکے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ عمر ایک سخت گیر انسان ہے، اور سخت گیر انسان کو امیرالمومنین نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ وہ سخت گیر ہیں، مگر سريرته خير من علانيته ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عمر فاروق کی عمارت کے مخالف تھے، وہ اپنی رائے کے حق میں غلط کرائٹیرین استعمال کر رہے تھے۔
امیر کے لیے اصل کرائٹیرین یہ نہیں ہے کہ وہ سخت ہے یا نرم؛ اس کے بجائے اصل کرائٹیرین یہ ہے کہ وہ نیک نیت ہو، وہ خدا سے ڈرنے والا ہو، وہ اپنے اندر بصیرت کی صفات رکھتا ہو، وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانتا ہو۔ صحیح کرائٹیرین یعنی معیار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خلافت کے لیے حضرت عمر فاروق کا انتخاب نہایت درست تھا، کیونکہ خلیفہ کی سب سے اہم صفت اس کا مدبر ہونا ہے، اور یہ صفت ان کے اندر پوری طرح موجود تھی۔ اس کے برعکس، اگر اس معاملے کو غلط کرائٹیرین سے دیکھا جائے تو ایک شخص کہے گا کہ خلافت کے لیے عمر فاروق کا انتخاب درست نہ تھا، کیونکہ ان کے مزاج میں بہت زیادہ شدت تھی، حالانکہ یہ کرائٹیرین ہی اس معاملے میں بجائے خود درست نہیں۔ جیسا کام ہو، ویسی ہی اہلیت درکار ہوتی ہے۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 224۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.