Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Nazarandaaz karna

Urdu · 4 min

نظرانداز کرنا۔ پیغمبرِ اسلام مکے میں 13 سال رہے، اس مدت میں وہ تقریباً روزانہ کعبے میں جاتے تھے۔ وہاں اس وقت 360 بت رکھے ہوئے تھے، یہ عربوں کے مختلف قبائل میں پوجے جانے والے بت تھے۔ مکے کی مرکزیت قائم کرنے کے لیے اہلِ مکے کے سرداروں نے یہ تمام بت کعبے میں اکٹھا کر دیے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ ان کو دیکھتے تھے، مگر مکی دور میں کبھی آپ نے ان کو توڑنے یا پھینکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ وقت سے پہلے کوئی کام نہ چھیڑا جائے۔ مکی دور میں آپ نے ان بتوں کو نظرانداز کیا، مگر بعد کو جب مکہ فتح ہو گیا تو آپ نے فوراً ان کو نکال کر کعبے کو ان مشرکانہ علامتوں سے پاک کر دیا۔ اسلام میں اقدام کرنا بھی ہے، مگر اسی کے ساتھ اسلام میں نظرانداز کرنا بھی ہے۔

اقدام کے وقت اقدام کرنا ضروری ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ جہاں اقدام کا موقع نہ ہو، وہاں سختی کے ساتھ نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی سنگین یا اشتعال انگیز معاملہ کیوں نہ ہو۔ حال میں کسی مسئلے کو اعراض کے خانے میں ڈالنا، مستقبل میں اس کے حل کا دروازہ کھولنا ہے، اور بے وقت اقدام کرنا حال اور مستقبل دونوں میں صرف نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ نظرانداز کرنے کی پالیسی دراصل انتظار کرنے کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ نظرانداز کرنا ایک دانشمندانہ پالیسی ہے، نہ کہ کسی قسم کی بزدلی۔

نظرانداز کرنا دوسرے لفظوں میں نظامِ فطرت سے مطابقت ہے، اور نظرانداز نہ کرنا نظامِ فطرت کے خلاف جنگ۔ کوئی شخص یا گروہ اتنا طاقتور نہیں کہ وہ فطرت سے لڑ کر کامیاب ہو سکے۔ اس دنیا میں ہر ایک کے لیے صرف ایک راستہ ہے، اور وہ نظامِ فطرت سے مطابقت رکھنا ہے۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں کسی کے لیے حقیقی کامیابی ممکن نہیں۔

نظرانداز کرنا بے عملی نہیں، نظرانداز کرنا باعمل انسان کا ایک اصول ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 223۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.