Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Dil jeetna

Urdu · 3 min

دل جیتنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کا مشن اٹھایا تو عرب میں آپ کی بہت زیادہ مخالفتیں کی گئیں، آپ کے خلاف ہر قسم کا تشدد کیا گیا، لیکن آپ نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تاکہ ان کا دل جیت سکیں۔ آپ کا وطن مکہ تھا، مکہ والوں نے آپ کے خلاف ظلم و زیادتی کر کے آپ کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

پھر ایک وقت آیا کہ آپ مکے میں فاتحانہ داخل ہوئے، مکے پر آپ کا قبضہ ہو گیا۔ اس وقت مکے کے مخالفین آپ کے سامنے لائے گئے، وہ سر جھکائے ہوئے کھڑے تھے، مگر آپ نے ان کو کسی قسم کی کوئی سزا نہیں دی، بلکہ سب کو عزت کے ساتھ آزاد کر دیا۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب کے سب لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح قبیلہ حوازن کے لوگوں نے سرکشی کر کے آپ کے اوپر حملہ کر دیا، ان سے جنگ کی نوبت آ گئی۔

اسلام کی تاریخ میں اس کو حنین کی جنگ کہا جاتا ہے۔ آخر میں آپ کو فتح حاصل ہوئی اور حوازن کے لوگ 6,000 کی تعداد میں گرفتار ہو کر آپ کے سامنے لائے گئے۔ ان کے ساتھ بھی آپ نے انتقام کا معاملہ نہیں کیا، بلکہ سب کو عزت کے ساتھ رہا کر دیا۔ اس اعلیٰ اخلاق کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔

انتقام لینا، سبق سکھانا، اسلام کا طریقہ نہیں۔ اس طرح کی کارروائی سے مسئلہ اور زیادہ بڑھتا ہے، مگر جب برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کیا جائے تو آدمی اندر سے مفتوح ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام دل جیتنا ہے، اور دل جیتنے کا طریقہ ہمیشہ زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے، خواہ انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی معاملہ۔ انتقام کا طریقہ پورے سماج کو منفی کارروائیوں کا جنگل بنا دیتا ہے۔

اس کے برعکس دل جیتنے والا طریقہ پورے سماج میں اخلاق اور انسانیت کی فضا پیدا کرتا ہے۔ انتقام سے مسئلہ صرف بڑھتا ہے، جبکہ دل جیتنے والا طریقہ مسئلے کو آخری حد تک ختم کر دیتا ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 220۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.