برا گمان کرنا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک خدا نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون اور اس کی آبرو کو حرام کر دیا ہے، اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں برا گمان کرے۔ إن الله حرم من المسلم دمه وعرضه وأن يظن به ظن السوء. تفسیر قرطبی۔
اس قسم کی ہدایات کا نتیجہ یہ تھا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب گمان قائم کرنے کے بارے میں بے حد حساس تھے، وہ اس معاملے میں آخری حد تک احتیاط برتتے تھے کہ کسی کے بارے میں غلط گمان اپنے ذہن میں قائم کر لیں۔ حسن بصری تابعی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ پہلے ہم ایسے زمانے میں تھے کہ بدگمانی کو حرام سمجھا جاتا تھا، اور آج بدگمانی اتنی ہلکی چیز بن گئی ہے کہ تم کسی کے بارے میں جو غلط رائے چاہو قائم کر لو۔ كنّا في زمنٍ أظنّ بالناس فيه حرامًا، وأنت اليوم في زمنٍ ظنٌّ في الناس ما شئت. بدگمانی اکثر اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک واقعے کو غلط رنگ دے دیا جاتا ہے۔
ایک بار حضرت سلمان فارسی اور ان کے دو ساتھیوں نے— ایک بار حضرت سلمان فارسی اور ان کے دو ساتھیوں کو کھانے کی ضرورت پیش آئی، ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ حضرت سلمان فارسی حضرت اسامہ کے پاس گئے، جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خازن تھے۔ حضرت سلمان نے ان سے کھانا طلب کیا، مگر اتفاق سے اس وقت سب کھانا ختم ہو چکا تھا، چنانچہ وہ کوئی کھانے کی چیز انہیں نہ دے سکے۔ حضرت سلمان جب اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف لوٹے اور ان کو قصہ بتایا تو دونوں نے کہا کہ اسامہ کے پاس کھانا موجود تھا، مگر انہوں نے بخل سے کام لیا۔
قد كان عنده لكنه بخلا. تفسیر القرطبی، جلد 8، صفحہ 331۔ مذکورہ دونوں افراد اگر حضرت اسامہ کے انکاری جواب کو عذر پر محمول کرتے تو وہ بدگمانی میں نہ پڑتے، مگر انہوں نے ان کے جواب کو بخل سمجھا، اس لیے وہ ایک صالح انسان کے بارے میں بدگمانی میں پڑ گئے۔ اس طرح کی بدگمانی اسلام میں سراسر حرام ہے۔
آدمی پر لازم ہے کہ اس طرح کے معاملات میں وہ اپنے بھائی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرے، ورنہ خاموش رہے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا رویہ اس کے لیے درست نہیں۔ اسلام ایک تعارف۔ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 219۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.