اخلاقی انحراف: ہر انسان اپنی اندرونی شخصیت کے اعتبار سے انسان ہے، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتا ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو صحیح اور درست فطرت پر پیدا کیا ہے۔ سورہ الروم، آیت 30۔ یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَسِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ» ہر آدمی جو پیدا ہوتا ہے، وہ فطرت ہی پر پیدا ہوتا ہے۔
پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کی فطرت صرف خدا کے مطلوب دین کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ وہ پیدائشی طور پر اس کی طرف مائل ہے۔ کوئی شخص جب کسی غیر مطلوب دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت سے منحرف ہو کر ایسا کرتا ہے۔
ایسا اختیار اس کے لیے مذہبی انحراف کے ہم معنی ہے۔ یہی بات انسانی اور اخلاقی پہلو سے بھی درست ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر انسانی قدروں کا تصور لیے ہوئے ہے۔ تخلیقی اعتبار سے وہ ایک بااخلاق انسان ہے۔
وہ حق کا اعتراف کرنے والا ہے۔ دوسروں کے لیے اس کے دل میں خیرخواہی کا جذبہ موجود ہے۔ وہ دوسروں کو سکھ پہنچانا چاہتا ہے۔ دوسروں کے لیے نفع بخش بننا اس کے لیے خوشی کا باعث ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی جب دوسروں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اپنی فطرت کے خلاف ورزی کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی جب دوسروں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اپنی فطرت کی خلاف ورزی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس قسم کا ہر فعل آدمی کے لیے گویا اخلاقی انحراف ہے۔ جب صورتحال یہ ہے تو آپ کے لیے دوسروں کے ضرر سے بچنے کی آسان تدبیر یہ ہے کہ اس کو اخلاقی انحراف میں مبتلا ہونے سے بچائیں۔
اس کو اپنے فطری اخلاق پر رہنے دیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر آپ کا دوست ہے۔ وہ دشمن صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو اس کی فطرت سے ہٹا دیا جائے۔ قرآن و حدیث کی شہادت کے مطابق ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔
ہر آدمی اپنے اندر صحیح شخصیت لیے ہوئے ہے۔ اس فطری شخصیت کے اوپر سے اس کا پردہ ہٹا دیجئے، اور پھر ہر آدمی آپ کا مطلوب انسان ہوگا۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 218۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.