دو طریقے۔ عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعًا لما جئت به." مشکات المصابیح، جلد 1، صفحہ 59۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس چیز کے تابع ہو جائے جو میں لایا ہوں۔ " اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں عمل کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک ہے ہوا یعنی اپنی خواہش پر عمل کرنا، اور دوسرا ہے ما جاء به الرسول یعنی پیغمبر کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا۔
آپ کے سامنے ایک حق آیا، آپ کے دل نے گواہی دی کہ یہ حق ہے، مگر اسی کے ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر میں اس حق کا اعتراف کر لوں تو میرا درجہ نیچا ہو جائے گا۔ اب اگر آپ نے حق کو مان لیا تو آپ نے ما جاء به الرسول پر عمل کیا، اور اگر آپ نے حق کا انکار کیا تو آپ نے اپنی ہوا کی پیروی کی۔ ایک شخص نے آپ کے اوپر تنقید کی، اس سے آپ کی انا کو چوٹ لگی، آپ برہم ہو گئے۔ اسی کے ساتھ رسول کی لائی ہوئی شریعت کا یہ حکم آپ کے سامنے آیا کہ متکبر نہ بنو، بلکہ متوازن بن کر لوگوں کے درمیان رہو۔
اب اگر آپ نے تنقید کے جواب میں تواضع کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ما جاء به الرسول پر عمل کیا، اور اگر آپ نے تنقید کے جواب میں گھمنڈ کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ہوا کی پیروی کی۔ ایک شخص کے کسی رویے سے آپ کو شکایت پیدا ہوئی، آپ مشتعل ہو گئے۔ اس وقت آپ کے سامنے شریعت کا یہ حکم آیا کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں، تب بھی تم صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب اگر آپ نے اشتعال کے باوجود صبر کیا تو آپ نے ما جاء به الرسول پر عمل کیا، اور اگر آپ مشتعل ہو کر فریق ثانی سے لڑنے لگے تو آپ نے ہوا کی پیروی کی۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ ہر معاملہ جو آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے، اس میں اس کے لیے دو میں سے ایک رویہ اختیار کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے کے بعد وہ خدا کے یہاں مومن لکھ دیا جاتا ہے، اور دوسرا رویہ اختیار کرنے کے بعد غیر مومن۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 217۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.