Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Tahqeeq zaruri

Urdu · 4 min

تحقیق ضروری۔ عن أبي سعيد قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن عنده، فقالت: زوجي صفوان بن المعطل يضربني إذا صليت، ويفطرني إذا صمت. قال: وصفوان عنده؟ قال: فاسأله عما قالت.

فقال: يا رسول الله، أما قولها "يضربني إذا صليت" فإنها تقرأ بسورتين وقد نهيتها. قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كانت سورة واحدة لكفت الناس. قال: وأما قولها "يفطرني إذا صمت" فإنها تنطلق تصوم، وأنا رجل شاب فلا أصبر. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصوم امرأة إلا بإذن زوجها.

ابو داؤد۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک صفوان بن المعطل ہیں۔ اس درمیان ایک عورت آتی ہے، وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کہتی ہے کہ صفوان بن المعطل میرے شوہر ہیں، جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھ کو مارتے ہیں، اور جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ کھلوا دیتے ہیں۔ عورت کے اس بیان کے مطابق بظاہر عورت صحیح تھی اور اس کا شوہر غلط، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جب شوہر سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔

صفوان بن المعطل چونکہ مجلس میں موجود تھے، آپ نے عورت کی شکایت کے بارے میں ان سے دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے رسول، نماز کے لیے مارنے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے، حالانکہ اس سے میں اس کو منع کر چکا ہوں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایک ہی سورہ کافی ہے۔ پھر صفوان نے کہا کہ روزہ کھلوانے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلسل روزہ رکھتی ہے، اور میں جوان آدمی ہوں، صبر نہیں کر سکتا۔

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر، یعنی نفل، روزہ رکھے۔ کسی کے خلاف شکایت کی بات معلوم ہو تو صرف سن کر اس کو نہیں مان لینا چاہیے، بلکہ تحقیق کرنا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ تحقیق کے بعد شکایت غلط ثابت ہو۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 216۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.