عفو و تواضع۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح عبادت کے وہ طریقے بتائے، جن کو اپنا کر آدمی خدا کی نظر میں پسندیدہ بن سکتا ہے، اسی طرح آپ نے وہ اخلاقی اصول بھی بتائے ہیں جن کو اگر اختیار کر لیا جائے تو انسان دوسرے انسانوں کے درمیان عزت اور سربلندی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے: وما زاد اللہ عبدًا بعفوٍ إلا عزًّا، وما تواضع أحدٌ لله عز وجل إلا رفعه الله تعالى. تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 184۔
اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کی صرف عزت کو بڑھاتا ہے، اور جو شخص خدا کے لیے تواضع اختیار کرے، اس کو خدا صرف اونچا ہی کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس سے بدلہ نہ لیا جائے تو وہ دلیر ہو جائے گا اور پہلے سے زیادہ برائی کرے گا، مگر حدیثِ رسول اس کے برعکس یہ بتاتی ہے کہ جو شخص برائی کرنے والے کو معاف کر دے تو اس کے بعد معاف کرنے والے کی عزت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کبھی جھکنا نہیں چاہیے؛ اگر جھکے تو لوگ اور زیادہ جھکانے کی کوشش کریں گے۔ مگر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع کا انداز اختیار کرو۔
اگر تم تواضع کا انداز اختیار کرو گے تو خدا کی مدد سے تم کو اور زیادہ سربلندی حاصل ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عفو اور تواضع کا طریقہ فطرت کو اپیل کرتا ہے۔ اس کے اندر انسان کو مسخر کرنے کی طاقت ہے۔ وہ انسان کو اندر سے زیر کر دینے والا ہے۔
جو شخص عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، اس نے گویا اس فطرت کو مخاطب بنایا جو ہر آدمی کے اندر اس کے خالق نے رکھ دی ہے، جو عین اپنی سرشت کے مطابق حق کے آگے جھکنے اور صاحبِ حق کا اعتراف کرنے کا مزاج رکھتی ہے۔ فطرت فریقِ ثانی کے اندر آپ کا نمائندہ ہے۔ جب آپ عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے اس نمائندے کو آپ اپنی حمایت میں کھڑا کر لیتے ہیں، اور اس سے زیادہ طاقتور حمایت کیا ہو سکتی ہے؟ اور اس سے زیادہ طاقتور حمایت کیا ہو سکتی ہے کہ خود فریقِ ثانی کے اندر آپ کا ایک حامی کھڑا ہو جائے۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 213۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.