حکمت کا سرچشمہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں حکمت اگا دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت جاری کر دیتا ہے، اور اس کو دنیا کا عیب اور اس کا مرض اور اس کا علاج دکھا دیتا ہے، اور اس کو حفاظت کے ساتھ سلامتی کے گھر تک پہنچا دیتا ہے۔ ما زهد عبدٌ فی الدنیا إلا أن بتَ اللهُ الحكمةَ فی قلبه وأنطق بها لسانه وبصَره عيبَ الدنيا وداءَها ودواءَها وأخرجه منها سالماً إلى دار السلام. البیہقی، بحوالہ مشکات المصابیح، صفحہ 1435۔ حکمت کیا ہے؟
حکمت دراصل حقیقت پسندی اور دور اندیشی کا دوسرا نام ہے۔ کسی شخص کا ذہنی ارتقاء جب اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ مسائل کا بے لاگ جائزہ لے سکے اور ان کے بارے میں گہری بنیادوں پر فیصلہ کرنے لگے، تو اسی کا نام حکمت ہے۔ اس حکمت کا سرچشمہ دنیا سے بے رغبتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اوپر دنیا کی کسی چیز کی محبت اتنی غالب آتی ہے کہ وہ اس کو باتوں کی حقیقت سمجھنے کے لیے اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔
اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی تجربہ اس کو کچھ لوگوں کے معاملے میں بغض کی نفسیات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے بغض کی بنا پر اس قابل نہیں رہتا کہ وہ معاملے کو اس کی اصل صورت میں دیکھ سکے۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں۔ وہ ان کے بارے میں وہی رائے قائم کرے جو ازروئے حقیقت ہونا چاہیے۔
ان کے مقابلے میں وہ وہی صحیح ترین روش اختیار کرے جو حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ زہد یا دنیا سے بے رغبتی آدمی کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ ایسا آدمی عقلی اعتبار سے ایک ترقی یافتہ انسان ہوتا ہے۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ حقیقت پسند ہوتا ہے اور اپنے اقدام کے بارے میں سنجیدہ اور محتاط۔
جو لوگ اس بلند کردار کے حامل ہوں، ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی کامیاب۔ زہد ترک دنیا نہیں، وہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.