Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Zabaan ka istemaal

Urdu · 4 min

زبان کا استعمال: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑے گنہگار وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ بے فائدہ باتیں کریں۔ أكثر الناس ذنوبًا أكثرهم كلامًا فيما لا يعنيه. جامع العلوم والحکم، صفحہ 99۔ انسان کو جو قیمتی چیزیں دی گئی ہیں، ان میں سے ایک نہایت قیمتی چیز زبان ہے۔

زبان کے ذریعے آدمی بولتا ہے، اس کے ذریعے وہ دوسروں سے تبادلہ خیال کرتا ہے۔ زبان دوسروں سے تعلق قائم کرنے کا سب سے زیادہ اہم ذریعہ ہے۔ اس اعتبار سے زبان ایک ایسی نعمت ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا کسی اور کو نہیں دی گئی۔ زبان کو اگر بقدرِ ضرورت استعمال کیا جائے تو اس میں انسان کے لیے نہایت عظیم فائدے ہیں۔

لیکن اگر زبان کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کیا جانے لگے تو یہ انتہائی مفید چیز انسان کے لیے ایک انتہائی مضر چیز بن جائے گی۔ زیادہ بولنے کا مطلب دوسرے لفظوں میں کم سوچنا ہے۔ جو آدمی ہر وقت بولتا رہے، وہ اس سے محروم ہو جائے گا کہ وہ دوسروں کی باتیں سنے اور اس سے اپنی معلومات میں اضافہ کرے۔ زیادہ بولنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر علم و فکر کی صلاحیت ترقی نہ کر سکے۔

یہ زبان کے بے ضرورت استعمال کا نتیجہ تھا۔ لیکن جب زبان کو غلط طور پر استعمال کیا جانے لگے تو اس کا نقصان اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس کا حساب لگانا ممکن نہیں۔ زبان کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی اس کو دوسروں کی برائی کرنے میں استعمال کرے۔ وہ افواہوں کو پھیلائے اور غلط معلومات کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے۔

وہ زبان کے ذریعے ایسی باتیں کرے جس سے لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے خلاف بے اعتمادی پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری شک میں مبتلا ہو جائیں۔ بے فائدہ کلام اگر زبان کی نعمت کی ناقدری ہے تو غلط کلام زبان کی نعمت کا برا استعمال ہے۔

اور خدا کی نظر میں دونوں ہی یکساں طور پر جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 207۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.