انسان کو ستانا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو، اور ان کو عار نہ دلاؤ، اور ان کی پوشیدہ باتوں کو تلاش نہ کرو۔ لا تؤذوا عباد الله ولا تعيروهم، ولا تطلبوا عوراتهم. مسند احمد، بحوالہ جامع العلوم والحکم، صفحہ 294۔
اچھا انسانی سماج بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس زندہ ہو۔ وہ دوسروں کی رعایت کرنا جانتے ہوں۔ وہ اپنے اوپر دوسروں کا یہ حق سمجھتے ہوں کہ انہیں دوسروں کے لیے ہرگز مسئلہ نہیں بننا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جبکہ ان کے پاس بظاہر اس کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ سماج کے اندر اس طرح رہے کہ اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
اس کو اپنی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہونے والے ہوں۔ اس کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جس میں اس کی اپنی ذات کے لیے تو فائدہ ہو، مگر دوسروں کے لیے وہ نقصان کا سبب بن جائے۔ ایسا ہر قول اور عمل گویا دوسروں کو ستانا ہے۔ اور جو آدمی دوسرے انسانوں کو ستائے، وہ ایک بے قیمت آدمی ہے، خدا کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی۔
آدمی کے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے، یا اس سے کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس کے بارے میں اس کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے، ایسی بات کا تذکرہ کر کے اس کو عار دلانا درست نہیں۔ تم وہی تو ہو جس نے ایسا کیا، یا جس کے باپ نے ایسا کیا۔ اس قسم کی باتیں کہہ کر کسی کو شرمندہ کرنا ایک غیر انسانی فعل ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسرے کی عزت و حرمت کا بھی اتنا ہی لحاظ کرے جتنا وہ خود اپنی عزت و حرمت کا لحاظ کرتا ہے۔
ہر آدمی کی کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کو وہ پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے جانیں۔ جو شخص لوگوں کی ایسی باتوں کے پیچھے پڑے، وہ کھود کرید کر ان کا پتہ لگائے، اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلائے، وہ ایک ایسا غیر اخلاقی فعل کرتا ہے جو اچھا سماج بنانے کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 206۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.