Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ghussa nahi

Urdu · 4 min

غصہ نہیں۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کچھ ایسی باتیں بتائیے جن کے تحت میں زندگی گزاروں، اور وہ زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو۔ عن حميد ابن عبدالرحمن ابن عوف أن رجلاً أتى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا رسول الله، علمني كلمات أعيش بهن ولا تكثر عليّ فأنسى".

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تغضب". موطا امام مالک، صفحہ 652۔ غصہ تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے۔ جو آدمی اپنے غصے پر قابو پا لے، وہ بقیہ تمام خرابیوں سے اپنے آپ بچ جائے گا۔

کسی آدمی کو اگر صرف ایک جامع اور کلیدی نصیحت کرنی ہو تو وہ صرف یہ ہوگی: اپنے آپ کو غصے سے بچاؤ۔ غصے کا مزاج ہر انسان میں ہوتا ہے، مگر عام حالات میں غصہ آدمی کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے۔ یہ غصہ صرف اس وقت جاگتا ہے جبکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ کر اس کو جگا دے۔ دنیا کی زندگی میں یہی آدمی کا امتحان ہے۔

جب وہ کسی کی زبان سے کڑوی بات سنے، اور اس کے سینے میں غصے کی آگ بھڑک اٹھے، تو آدمی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ غصے کی آگ کو بجھائے، نہ یہ کہ غصے کی آگ کو اتنا بھڑکائے کہ خود بھی اس میں جل کر ختم ہو جائے۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ غصے کے حالات میں بھی وہ غصہ نہ کرے۔ اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو۔ ایسا آدمی معاملے کو بڑھائے بغیر ابتدائی مرحلے ہی میں اس کو ختم کر دے گا۔

غصہ نہ کرنے کی عادت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو بے فائدہ طور پر ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات میں بھی اپنے لیے موافق امکانات دریافت کر لیتا ہے۔ غصہ نہ کرنا عالی ظرفی کی علامت ہے۔ اس کے مقابلے میں جو آدمی غصہ کرے، وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ ظرف کی بلندی کی صفت اس کے اندر موجود نہیں۔

اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 205۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.