اخلاقی کنٹرول۔ ابو مسعود البدری، ایک صحابی، وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنے غلام کو کوڑے سے مار رہے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہاں آ گئے۔ آپ نے یہ دیکھ کر کہا کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قدرت رکھتے ہو۔
یہ سن کر ابو مسعود کے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ میں کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ اس کے بعد انہوں نے غلام کو آزاد کر دیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ تم کو پکڑ لیتی۔
صحیح مسلم، بحوالہ ریاض الصالحین، صفحہ 398۔ دنیا میں ظلم و زیادتی کی جتنی صورتیں ہیں، ان سب کی وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ایک انسان کا سابقہ جب کسی دوسرے انسان سے پیش آتا ہے تو وہ اس کو صرف ایک انسانی معاملہ سمجھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ بس ایک انسان ہے، اور اگر میں اس کے ساتھ ظلم یا بے انصافی کروں تو اس کے آگے کہیں میری پکڑ ہونے والی نہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانوں کے اوپر ایک برتر طاقت ہے، اور وہ خدا ہے۔
خدا ہر انسان کی نگرانی کر رہا ہے۔ جو شخص کسی دوسرے کو ناحق ستائے، یا اس کے ساتھ بے انصافی کرے، تو خدا ایسے شخص کو پکڑے گا اور اس کو اس کے فعل کی سخت سزا دے گا۔ خدائی پکڑ کا یہ احساس کسی انسان کے لیے سب سے بڑا روک ہے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ جس معاملے کو تم صرف ایک انسانی معاملہ سمجھ رہے ہو، وہ حقیقتاً ایک خدائی معاملہ ہے۔
کسی انسان کے مقابلے میں تم طاقتور ہو سکتے ہو، مگر خدا کے مقابلے میں کوئی بھی طاقتور نہیں۔ خدا کی پکڑ جب ظاہر ہوگی تو نہ کوئی طاقت والا اس کی زد سے بچے گا اور نہ کوئی بے طاقت والا۔ مذکورہ عقیدہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقی کنٹرول میں رکھے۔ وہ اپنی آزادی کو کسی بھی حال میں غلط طور پر استعمال نہ کرے۔
اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو کوئی انسان آپ کو کمزور نہیں دکھائی دے گا جس کو آپ دبائیں۔ اور نہ کوئی انسان آپ کو بے یار و مددگار نظر آئے گا جس کے اوپر اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے لیے آپ دلیر ہو جائیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 204۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.