Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Fakhr-o-naaz

Urdu · 4 min

فخر و ناز۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فخر و ناز نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ إن العجوبة ليأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب. ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 113۔

انسان کے اندر فطری طور پر انا کا جذبہ رکھا گیا ہے؛ کوئی بھی شخص "میں" کے اس احساس سے خالی نہیں۔ یہ جذبہ انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی کے اندر عزم و ہمت پیدا ہو، وہ جوکھم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھے۔ وہ خود اعتمادی کی طاقت سے مسلسل آگے بڑھتا رہے۔

مگر اکثر لوگ اس جذبے کا برا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا انا کا جذبہ خود اعتمادی کے بجائے خود پسندی اور ذاتی فخر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ انا کے جذبے کا غلط استعمال ہے، اور کسی چیز کا غلط استعمال ہمیشہ اس کو برا بنا دیتا ہے، خواہ حقیقت کے اعتبار سے وہ چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ فخر و ناز کا جذبہ کوئی سادہ چیز نہیں؛ وہ انسان کی تمام خوبیوں کو کھا جاتا ہے۔

وہ انسان کے اندر اعلیٰ خصوصیات کے ارتقا میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ فخر کی نفسیات آدمی کو خود پسند بنا دیتی ہے۔ اور جو آدمی خود پسند ہو جائے، اس نے گویا اپنے آپ کو ذاتی خول میں بند کر لیا۔ ایسا آدمی اس صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ خارجی حقیقتوں کو سمجھے۔

وہ دوسروں سے فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنے سے باہر کی چیزوں کو اپنی ترقی کا زینہ بنا سکے۔ ایسا آدمی کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں بھی اس کا فخر کا جذبہ شامل رہتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے، خود نمائی کے لیے کرتا ہے۔

اس کی سرگرمیوں کا محور اس کی اپنی ذات بن جاتی ہے۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا محور وہ حقیقت ہو جو اس کے باہر اعلیٰ سطح پر قائم ہے۔ فطرت انسان کے اندر تواضع دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن فخر پسند آدمی کبر کی تصویر بنا ہوا ہوتا ہے۔

فطرت حقیقتوں کے اعتراف کو پسند کرتی ہے، مگر ایسا آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ فطرت تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہے، اور ایسا آدمی چاہتا ہے کہ اس کو استثنائی مقام دیا جائے۔ فطرت کے ساتھ اس قسم کی عدم مطابقت موجودہ دنیا میں قابلِ عمل نہیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 202۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.