اچھا انسان، برا انسان۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ تم میں سب سے زیادہ برے لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں، اے خدا کے رسول! آپ نے فرمایا: تم میں سب سے زیادہ برے وہ ہیں جو چغلی کرتے پھریں، جو دوستوں کے درمیان بگاڑ ڈالیں، جو لوگوں کے عیوب تلاش کریں۔
عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ألا أخبركم بشراركم؟ " قالوا: بلى، يا رسول الله. قال: "من شراركم المشاءون بالنميمة، المفسدون بين الأحبة، الباغون العيوب." ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 422۔ فطرت کے نقشے میں ہر انسانی کردار کی مثالیں موجود ہیں۔
یہ مثالیں اس لیے ہیں کہ انسان ان پر غور کرے، وہ ان سے نصیحت لے، اور پھر وہ اچھے کردار کو اپنائے اور جو برا کردار ہے اس سے دور رہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کی مکھیاں ہوتی ہیں: ایک شہد کی مکھی جو ہمیشہ خوشبو اور مٹھاس کی تلاش میں ہوتی ہے، وہ جس پھول میں خوشبو اور مٹھاس دیکھتی ہے فوراً اڑ کر وہاں پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح وہ پھولوں کی مٹھاس لے کر اسے جمع کرتی ہے تاکہ وہ اسے دوسرے انسانوں تک پہنچا سکے۔ دوسری مثال عام مکھی کی ہے: اس کو گندگی سے دلچسپی ہوتی ہے، وہ ہر وقت اڑتی رہتی ہے صرف اس لیے کہ جہاں وہ گندگی پائے وہاں پہنچ کر اس سے اپنا حصہ وصول کرے۔
اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک وہ انسان جو بھلائی کو پسند کرتا ہو، وہ لوگوں کے درمیان جائے تو ان سے ان کی بھلی باتوں کو لے اور اسے دوسروں تک پہنچائے۔ وہ لوگوں کے درمیان اچھی اور بھلی باتوں کا سفیر بن جائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو بہتر انسان کہا جائے۔ ایسا انسان فطرت کا مطلوب انسان ہے۔
فطرت کے تمام اعلیٰ امکانات ایسے ہی لوگوں کے لیے مقدر کیے گئے ہیں۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کی روح کو برائیوں کے تذکرے سے غذا ملتی ہے۔ ایسا انسان جب لوگوں سے ملتا ہے تو اس کی ساری دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی برائیوں کو تلاش کرے۔ اور اگر کوئی برائی نہ ملے تو فرضی طور پر خود ساختہ برائیوں کو ان کی طرف منسوب کر دے۔
اور پھر ان فرضی یا واقعی برائیوں کو لوگوں سے بیان کرتا رہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 201۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.