لا یعنی سے پرہیز: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ان کاموں کو چھوڑ دے جن میں کوئی فائدہ نہیں۔ یعنی من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. (أدب الدنيا والدين للبصري، صفحہ 83) سچا انسان ایک بامقصد انسان ہوتا ہے، اس کی ساری توجہ ایک متعین مقصد کی طرف لگی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ مقصدیت اس کے اندر یکسوئی پیدا کر دیتی ہے، وہ اس کام میں مشغول ہوتا ہے جس کا اس کے مقصد سے واضح تعلق ہو۔
اور جو چیز اس کے مقصد کے اعتبار سے غیر متعلق ہو، اس سے وہ اپنے آپ کو دور کر لیتا ہے۔ ایسا آدمی ضروری اور غیر ضروری میں فرق کرتا ہے۔ کسی کام کو کرنے سے پہلے وہ دیکھتا ہے کہ یہ کام اس کے مقصد کے اعتبار سے کس حد تک ضروری ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو بولنے سے پہلے سوچتا ہے کہ اس کا بولنا کسی حقیقی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے، یا وہ ایک بے فائدہ کلام کی حیثیت رکھتا ہے۔
حتیٰ کہ اپنے مقصد کے بارے میں اس کی حساسیت اس کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی سوچ کے اوپر بھی نگراں بن جائے۔ وہ اپنے دماغ کو ایسی باتیں سوچنے میں استعمال نہ کرے جس کا کوئی مثبت فائدہ اس کو یا انسانیت کو ملنے والا نہیں۔ بے مقصد انسان اور بامقصد انسان کا فرق یہ ہے کہ بامقصد انسان سوچی سمجھی زندگی گزارتا ہے، اور بے مقصد انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی واضح نشانہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی منزل کے بغیر اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔
سچا انسان وہ ہے جو بااصول انسان ہو۔ ایسے انسان کی سرگرمیاں اصول کے تحت ہوتی ہیں، نہ کہ محض ذاتی خواہش کے تحت۔ ایسا انسان اپنی ذاتی خواہش کو الگ رکھ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ ایسے انسان کا حال فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف انہی چیزوں کو لیتا ہے جن کی کوئی اصولی اہمیت ہو، اور جو چیزیں اصول کے اعتبار سے غیر اہم ہوں، ان کو وہ چھوڑ دیتا ہے، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی بارونق دکھائی دیتی ہوں۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 200۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.