نرم روش۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال ایک زری پودے جیسی ہے جس کو ہوائیں ہلاتی رہتی ہیں، ایک جھونکا اس کو زمین پر گرا دیتا ہے اور دوسرا جھونکا اس کو سیدھا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آ جائے۔ مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع؛ تُفَيِّئُها الرياحُ، تَسْرَعُهَا مَرَّةً وَتُعَدِّلُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ. متفق علیہ، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 1 صفحہ 487۔
خدا پرست انسان اکڑ والا انسان نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک نرم انسان ہوتا ہے، اپنی فکر اور عقیدے پر کامل یقین رکھنے کے باوجود عملی زندگی میں اس کا رویہ ہمیشہ نرمی والا ہوتا ہے، نہ کہ سختی والا۔ سماجی زندگی میں کوئی آدمی اپنے عقیدے میں تو بے لچک ہو سکتا ہے، مگر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے بے لچک بننا اس کے لیے ممکن نہیں۔ عقیدہ ایک ذاتی معاملہ ہے، اور وہ حقیقتِ واقعے سے مطابقت کے تحت بنتا ہے، مگر عملی روش میں لوگوں کے ساتھ رعایت کرنا ضروری ہے۔ لوگوں کی رعایت کیے بغیر عملی زندگی کا کوئی ڈھانچہ بننا ممکن نہیں۔
عملی زندگی میں کوئی شخص اکڑ کی روش کیوں اختیار کرتا ہے؟ یہ ہمیشہ انانیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ جب بھی کسی سے اختلاف کی صورت پیش آتی ہے تو آدمی فوراً اس کو اپنے لیے غیرت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے اس معاملے میں لچک دکھائی تو میں فریقِ ثانی کے مقابلے میں چھوٹا بن جاؤں گا۔
یہی احساس اس کو لچکدار رویہ اختیار کرنے سے روک دیتا ہے۔ وہ اپنے موقف کو اصولی موقف قرار دے کر اس پر جم جاتا ہے، حالانکہ ایسے موقع پر اصولی موقف یہ ہے کہ معاملے کو غیرت کا سوال نہ بنایا جائے، بلکہ نرمی اور لچک کا انداز اختیار کرتے ہوئے معاملے کو حل کیا جائے۔ خدائی عقیدے کے تحت جو انسان بنتا ہے، اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ ساری بڑائی خدا کے لیے ہے، میں اس کا صرف بندہ ہوں اور میرے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ احساس خدا پرست انسان کو ایک نرم انسان بنا دیتا ہے، جس کا اظہار لوگوں کے درمیان مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔
نرمی اور رعایت کا طریقہ ایک خدائی طریقہ ہے، اس کے برعکس شدت اور کڑے پن کا طریقہ سراسر غیر خدائی طریقہ ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.