Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Paband zindagi

Urdu · 3 min

پابند زندگی: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹی کی رسی سے بندھا ہوا گھوڑا؛ وہ گھومتا ہے اور پھر اپنی کھونٹی کی طرف واپس آ جاتا ہے۔ مثل المؤمن ومثل الإيمان كمثل الفرس في آخيته؛ يجول ثم يرجع إلى آخيته. البیہقی، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 2، صفحہ 1226: انسان کو دنیا کی زندگی میں کھلے ہوئے گھوڑے کی طرح نہیں رہنا ہے، بلکہ بندھے ہوئے گھوڑے کی طرح رہنا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو مقرر اصولوں کا پابند بنائے؛ وہ ایک بااصول انسان کی زندگی گزارے، نہ کہ بے اصول انسان کی زندگی۔

یہ بااصول زندگی کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ آدمی حرام اور حلال میں تمیز کرے، خدا نے جن چیزوں کی اجازت دی ہے ان کو استعمال کرے، اور خدا نے جن چیزوں سے روکا ہے ان سے وہ اپنے آپ کو روکے رہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ تعمیری انداز میں سوچے اور تخریبی سوچ سے ہر حال میں اپنے آپ کو باز رکھے۔ وہ اپنی زبان سے صرف درست بات نکالے، اور جہاں غلط بات کا موقع ہو وہاں وہ اپنی زبان کو بند کر لے۔

لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ انصاف کے اصولوں کی پابندی کرے؛ وہ کبھی لوگوں کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہ کرے۔ لوگوں کے درمیان اس کا سلوک ذمہ دارانہ سلوک ہو؛ غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کی روش کو وہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دے۔ گھوڑے کو مادی رسی باندھتی ہے، مگر انسان کو جو چیز باندھتی ہے وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے اخلاقی اور انسانی اصول ہیں۔ گھوڑا مجبور ہوتا ہے کہ وہ رسی کے دائرے سے باہر نہ جائے؛ یہی کام انسان خود عائد کی ہوئی پابندی کے تحت کرتا ہے۔

انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی رسی آپ بن جائے؛ وہ اس پابند زندگی کو آزادانہ طور پر اختیار کر لے، جس کو ایک گھوڑا مجبورانہ طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ ناکام وہ ہے جو آزادی پا کر بے قید ہو جائے، اور کامیاب وہ ہے جو آزادی کے باوجود پابند زندگی گزارے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 195۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.