نجات کا ذریعہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ خدا قیامت کی تکلیفوں سے اسے بچائے، تو اس کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مہلت دے، یا وہ اس کو معاف کر دے۔ عن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من سرّه أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة فليُنَفَّس عن معسرٍ أو يضع عنه". مسلم ایک آدمی اپنی ضرورت کے لیے کسی سے قرض لے، اور جب ادائیگی کا مقرر وقت آئے تو وہ اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسی حالت میں قرض دینے والے کو چاہیے کہ وہ قرض دار کو مزید مہلت دے۔ اور اگر اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے قرض دینے والا اپنے قرض کو معاف کر دے تو اس کا یہ عمل خدا کو بہت پسند ہے۔
خدا ایسے بندوں کے ساتھ آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں انسانوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے۔ اس اصول کا تعلق صرف قرض سے نہیں ہے، بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ سماجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے، اور دوسرا آدمی یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ اس کو اس مشکل سے نکالے اور اس کو راحت پہنچائے۔ ایسا ہر موقع آدمی کے لیے اس اعتبار سے نہایت قیمتی ہے کہ وہ اپنے بھائی پر مہربانی کر کے زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے لیے خدا کی مہربانی حاصل کر لے۔
دوسرے کا بوجھ اتارنا اپنے انجام کے اعتبار سے اپنے بوجھ کو ہلکا کرنا ہے۔ دوسرے کے کام آنا آخر کار یہ فائدہ دیتا ہے کہ آدمی کا خود اپنا بگڑا ہوا کام بن جائے۔ جو آدمی دوسروں کی ضرورتیں پوری کرے، خدا اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور زیادہ بڑے پیمانے پر اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ کسی کو مشکل حالت میں دیکھ کر تڑپنا ایک اعتبار سے انسانیت کی بات ہے۔
جو شخص ایسا کرے، اس نے گویا اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا عظیم تر فائدہ یہ ہے کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو خدا کی عنایت کا مستحق بنا لیتا ہے۔ یہ گویا دنیاوی عمل کی اخروی قیمت ہے، اور بلاشبہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 194۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.