دوسروں کے حقوق؟ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود سیر ہو کر کھائے، اور اس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ليس المؤمن بالذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه". البیہقی: جس انسان کے اندر اعلیٰ احساس زندہ ہو، وہ کبھی اس کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ خود تو فراغت کے ساتھ کھائے اور پیے، جبکہ اس کو معلوم ہو کہ اس کے قریب ایسے افراد موجود ہیں جو بھوک کے مسئلے سے دوچار ہیں، اور ان کے پاس اپنی بھوک مٹانے کے لیے کوئی سامان موجود نہیں۔
یہ ایک انسانی احساس ہے، اس کا تعلق محدود طور پر صرف کھانے پینے سے نہیں، بلکہ ہر انسانی ضرورت سے ہے۔ سچے آدمی کی پہچان یہ ہے کہ جب بھی وہ کچھ انسانوں کو ضرورت کی حالت میں دیکھے تو وہ ان کے لیے تڑپ اٹھے۔ اس کو اس وقت تک چین نہ آئے جب تک کہ وہ ان کی ضرورت پوری نہ کر دے۔ اس ضرورت کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔
اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے تو بے حد فکرمند ہوں، لیکن اپنے پڑوسیوں یا اپنے ہم وطنوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا جذبہ آپ کے اندر نہ پایا جائے، تو یہ بھی اسی کوتاہی میں شامل ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے گھر والوں کی معاشیات کو درست کرنے کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے ہوں، لیکن دوسروں کی معاشیات کے بارے میں آپ کچھ نہ سوچیں، تو آپ کی یہ روش بھی اسی حدیث کی مصداق قرار پائے گی: خدا کی جنت ایک لطیف اور نفیس کالونی ہے، اس میں وہی لوگ داخل کیے جائیں گے جو اپنے اندر افاقی مزاج رکھتے تھے، جو تمام انسانوں کے درد کو اپنا درد بنائے ہوئے تھے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں کوئی اچھا انسانی سماج وہ لوگ بناتے ہیں جن میں یہ صفت ہو کہ وہ خود کھانے کے ساتھ دوسروں کو کھلائیں، وہ اپنے لیے سوچنے کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی سوچیں، وہ اپنی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کی تڑپ رکھتے ہوں۔ وہ انسانی سماج میں اس طرح رہیں جیسے کہ یہ سماج ایک وسیع کنبہ ہے، اور وہ اس کنبے کے ایک فرد ہیں۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.