Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Aadaab-e-kalaam

Urdu · 4 min

آدابِ کلام: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا اس شخص پر رحم کرے جس نے بھلی بات کہی اور اس کا فائدہ اٹھایا، یا وہ چپ رہا اور اس نے سلامتی پائی۔ رحم الله من قال خيراً فغنم أو سكت فسلم. ادب الدنیا و الدین، صفحہ 433۔ اس دنیا میں جس طرح بولنا ایک کام ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔

کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آدمی بولے، اور کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے۔ وہ آدمی خوش قسمت ہے جو اس فرق کو جانے؛ ایسا آدمی خود بھی کامیاب ہوگا اور دوسروں کو بھی اس سے کامیابی کا تحفہ ملے گا۔ آدمی کو کب بولنا چاہیے، اس کی دو لازمی شرطیں ہیں: ایک یہ کہ اس کے پاس کوئی ایسی بات ہو جو سچ مچ کہنے کے قابل ہو۔ یہ بات وہ ہوتی ہے جس پر آدمی نے مدتوں غور کیا ہو، اس نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کے بارے میں ایک رائے قائم کی ہو، اس کا بولنا اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ تمام تر سننے والوں کی خیرخواہی میں ہو۔

تاہم، بولنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آدمی کے پاس ایک صحیح بات ہے؛ اسی کے ساتھ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی بے لاگ جائزے کے تحت یہ دیکھے کہ اس کا بولنا نتیجے کے اعتبار سے کیا ہوگا۔ بولنا صرف بولنے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ کسی نتیجے کے لیے ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ صرف اس وقت بولے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اس کا بولنا کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا۔ جب آدمی کے پاس بولنے کے لیے کوئی بہت سوچی سمجھی بات نہ ہو، یا حالات بتاتے ہوں کہ اس کا بولنا کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا سبب نہیں بنے گا، تو ایسی حالت میں آدمی کے اوپر ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ چپ رہے۔

ایسے موقع پر اس کا چپ رہنا ہی اس کے لیے باعثِ خیر ہے، نہ کہ بولنا۔ اس دنیا میں خدا کی مدد اس کو ملتی ہے جو دنیا میں قائم کیے ہوئے خدائی قانون کی پابندی کرے۔ یہ دنیا خدا کے مقرر قوانین پر چل رہی ہے؛ یہ قوانین کبھی نہیں بدلتے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ قانونِ فطرت سے ٹکرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرے۔

اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 192۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.