بہترین اخلاق حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "کیا میں تم کو بتاؤں کہ دنیا و آخرت میں لوگوں کا بہترین اخلاق کیا ہے؟ " کہا گیا کہ ہاں، اے خدا کے رسول، آپ نے فرمایا کہ "جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو، جو تم کو محروم کرے تم اسے دو، اور جو تمہارے اوپر زیادتی کرے تم اسے معاف کرو۔ " عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أخبرك بأفضل أخلاق أهل الدنيا والآخرة؟ " قال: نعم.
قال: "تصل من قطعك، وتعطي من حرمك، وتعفو عمن ظلمك." البیہقی: دنیا میں آدمی کو بار بار تلخ تجربے پیش آتے ہیں۔ کوئی شخص ایک بات پر ناراض ہو کر آپ سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ کوئی شخص آپ کو محرومی کا تجربہ کراتا ہے۔ کوئی شخص آپ کے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتا ہے۔
ایسے مواقع پر عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر جوابی غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لوگ چاہنے لگتے ہیں کہ جس سے انہیں تلخ تجربہ پیش آیا ہے، اس کو بھی اپنی طرف سے تلخ تجربہ کرائیں تاکہ اس کو سبق حاصل ہو۔ مگر یہ اعلیٰ انسانی سوچ نہیں۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اپنی عقل سے سوچے، جس کا رویہ خود اپنے سوچے سمجھے اصول کے تحت متعین ہوتا ہو، نہ کہ دوسروں کے ردعمل کے تحت۔
ایسے انسان کا ذہن دوسروں کے رویے سے برہم نہیں ہوتا۔ اس کی فکری پختگی اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ردعمل سے اوپر اٹھ کر اپنے لیے جینے کی سمت پا لے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، خواہ اس کی طرف سے اس کو برے سلوک کا تجربہ ہوا ہو۔ اس کی بلند فکری اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جڑا رہے جو اس کے ساتھ تعلق توڑنے کا معاملہ کرتے ہوں۔
وہ ان لوگوں کو بھی دینے میں خوشی محسوس کرے جو اس کو نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے ہوں۔ کوئی شخص اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرے، تب بھی اس کا دل تنگ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک طرفہ طور پر ایسے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق با اصول انسان کا طریقہ ہے، اور کمتر اخلاق بے اصول انسان کا طریقہ۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 191۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.