"برائی کے بدلے بھلائی" حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے۔ گندگی گندگی کو صاف نہیں کرتی۔ إن الله لا يمحو السيئ بالسيئ، ولكن يمحو السيئ بالحسن. إن الخبيث لا يمحو الخبيث.
مسند احمد۔ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اس کو سماج میں سرخرو بنانے والا ہو۔ پھر آدمی کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کی روش سے ہٹ جاتا ہے؟
اس کا سبب جوابی نفسیات ہے۔ سماج میں جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے جذبات کو دوسرے آدمی سے کوئی ٹھیس پہنچے، تو پہلا آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میری عزت خطرے میں آ گئی۔ اپنی عزت کو محفوظ کرنے کا طریقہ اس کی سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وہ دوسرے شخص پر جوابی حملہ کر کے معاملے کو برابر کر لے۔ مگر یہ ایک غلط تدبیر ہے۔
ایسی کسی کارروائی کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ جس طرح ایک گندگی کو دوسری گندگی کے ذریعے پاک نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک غلطی کو دوسری غلطی کے ذریعے درست کیا جائے۔ بد اخلاقی کا جواب بد اخلاقی نہیں، اس کی اصلاح کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جس آدمی نے بد اخلاقی کا سلوک کیا ہے، اس کے ساتھ حسن اخلاق کا سلوک کیا جائے۔ جب آپ برے سلوک کا جواب برے سلوک سے دیں، تو فریق ثانی کے اندر انتقامی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔
وہ آپ کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ برے سلوک کا جواب اچھے سلوک سے دیں، تو فریق ثانی کے اندر شرمندگی کا احساس جاگ اٹھے گا۔ وہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا۔ اس کا یہ جذبہ خود ہی اس کو مجبور کرے گا کہ وہ آپ کے بارے میں اپنے رویے کو درست کر لے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی معاملے کو اپنے انتقامی جذبے کی تسکین کا مسئلہ نہ بنائے، بلکہ اس کو صرف حل کی نظر سے دیکھے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 190۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.