خدا کا پسندیدہ معاشرہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا بندے کی مدد پر ہوتا ہے جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی مدد پر ہو۔ والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه. صحیح مسلم۔ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے فطرت کے جس قانون کے تحت بنایا ہے، اس میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے کیے ہوئے کا انجام نہ پائے۔
اس قانون کا ایک پہلو یہ ہے کہ کوئی آدمی جب سماج کے دوسرے لوگوں کی مدد کرتا ہے، وہ ان کی ضرورت کے موقع پر ان کے کام آتا ہے، تو پورے ماحول میں اس کے موافق فضا بننے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ معاملہ اپنے آپ دو طرفہ بن جاتا ہے: جس نے دوسروں کی مدد کی تھی، دوسرے لوگ بھی مزید اضافے کے ساتھ اس کی مدد کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ انسان کی مدد کرنا کسی پتھر کے اسٹیچو کی مدد کرنا نہیں ہے، بلکہ زندہ اور حساس انسان کی مدد کرنا ہے۔ انسان کے اندر پائی جانے والی یہی زندگی اور حساسیت معاملے کو دو طرفہ بنا دیتی ہے۔
مدد پانے والا اپنی فطرت سے مجبور ہو کر مدد دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ سماجی نظام کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ اس کا ہر فرد صرف اپنے بارے میں سوچتا ہو، اس کو اپنے مفاد کے سوا کسی اور چیز کی خبر نہ ہو، وہ وہاں حرکت میں آتا ہو جہاں اس کا ذاتی فائدہ ہے، اور جہاں اس کا ذاتی فائدہ نہ ہو وہاں وہ بے حس و بے حرکت بن جائے۔ ایسا سماج خدا کی مدد سے محروم رہتا ہے۔ ایسے سماج میں اعلیٰ انسانیت کی فضا نہیں بنتی، اور جہاں اعلیٰ انسانیت کی فضا نہ ہو، وہاں ہر ایک کو کہیں نہ کہیں اس کا برا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔
دوسرا سماج وہ ہے جہاں ہر آدمی اپنی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی تیار رہتا ہو۔ جہاں ہر آدمی اپنے جذبات کے ساتھ دوسروں کے جذبات کا بھی لحاظ کرتا ہو۔ ایسے سماج میں اپنے آپ ہر طرف انسانیت اور اخلاق کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ماحول میں رہ رہا ہے، نہ کہ غیروں کے ماحول میں۔
اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 189۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.