یکساں انسان۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران وہاں سے ایک جنازہ گزرا، آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے۔
آپ نے فرمایا: "کیا وہ انسان نہ تھا" "أَلَيْسَتْ نَفْسًا" فتح الباری، جلد 3، صفحہ 214۔ خدا پرستانہ زندگی کا اصول یہ ہے کہ ہر انسان کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جائے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے مذہب سے۔ خواہ وہ اپنی قوم کا آدمی ہو یا غیر قوم کا آدمی۔ احترام کا تعلق اس حقیقتِ واقعے سے ہے کہ خدا نے جس طرح مجھ کو پیدا کیا ہے، اسی طرح اس نے دوسرے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے۔
ایک انسان، خواہ وہ کوئی بھی مذہب یا کلچر اختیار کر لے، اس کی انسانی حیثیت بہرحال باقی رہتی ہے۔ اور اس مشترک حیثیت کی بنا پر وہ تمام لوگوں کے لیے بدستور قابلِ احترام بنا رہتا ہے۔ جب آپ کسی آدمی کو دیکھیں اور آپ کی نظر اس کے اختلافی پہلو پر چلی جائے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اس کے بارے میں نفرت اور توحش میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ آپ اس کو اس نظر سے دیکھیں کہ وہ ایک انسان ہے، وہ خدا کا ایک تخلیقی شاہکار ہے۔
اس کا موجوداتی وجود خدا کی اعلیٰ صفات کی یاد دلاتا ہے۔ تو ایسی حالت میں آپ ظاہری اختلافات کو بھول کر خدا کی خدائی میں گم ہو جائیں گے۔ اب مخلوق کے آئینے میں آپ کو خالق دکھائی دینے لگے گا۔ انسان کی صورت میں آپ ایک ایسی ہستی کا تصور کرنے لگیں گے جو آپ ہی کی طرح خدا کی پیدا کی ہوئی ہے، جو اتنا ہی محترم ہے جتنا آپ خود اپنے کو محترم سمجھتے ہیں۔
جس کا تعلق خدا کے ساتھ اتنا ہی ہے جتنا خود آپ کا تعلق خدائے رحمان و رحیم کے ساتھ ہے۔ کسی انسان کا احترام انسان کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ خدا کے لیے ہوتا ہے۔ مومن جب کسی انسان کا احترام کرتا ہے تو یہ اس کی طرف سے دراصل اس کے خدائی احساسات کا اظہار ہوتا ہے۔ اور خدائی احساسات کے اظہار کی کوئی حد نہیں۔
اس کا تعلق کانٹے سے بھی اتنا ہی ہے جتنا پھول سے۔ وہ ایک انسان کے معاملے میں بھی اسی طرح ظاہر ہوتا ہے جس طرح کسی دوسرے انسان کے معاملے میں۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 197۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.