Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Husn-e-akhlaaq

Urdu · 4 min

حسن اخلاق۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن مومن کی ترازو میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھا اخلاق ہوگا، اور خدا اس شخص سے نفرت کرتا ہے جو بے حیائی کی بات بولے اور بد زبانی کرے۔ " قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أثقل شيء في ميزان المؤمن يوم القيامة خلقٌ حسنٌ، وإن الله يبغض الفاحش البذيء." الترمذی۔ اخلاق انسان کی پہچان ہے؛ جیسا اخلاق ویسا انسان۔

کوئی آدمی اچھا لباس پہن کر اچھا آدمی نہیں بنتا؛ یہ دراصل اچھا اخلاق ہے جو کسی انسان کو اچھا انسان بناتا ہے۔ انسانی اخلاق کی پہچان سب سے پہلے اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ زبان آدمی کی اندرونی شخصیت کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ کوئی آدمی اپنی اندرونی شخصیت کے اعتبار سے جیسا ہوگا، ویسا ہی وہ اپنی زبان پر ظاہر ہوگا۔

جس آدمی کے اندر انسانیت ہو، وہ تواضع اور ہمدردی کے احساسات میں جی رہا ہو، جو اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہو کہ اس کے اوپر دوسروں کے حقوق ہیں اور ان حقوق کو بہرحال ادا کرنا ہے۔ ایسا آدمی جب کلام کرے گا تو اس کی زبان میں دوسروں کی رعایت شامل ہوگی۔ وہ ہر حال میں انصاف کی بات بولے گا۔ اس سے دوسروں کو میٹھے کلام کا تحفہ ملے گا۔

اس کے برعکس جس آدمی کے دل میں کبر ہو، جس کا سینہ ذمہ داری کے احساس سے خالی ہو، جو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنا نہ جانتا ہو، ایسا آدمی جب دوسروں سے کلام کرے گا تو اس کے کلام میں بے حسی ہوگی۔ اس کے الفاظ بدخواہی کا کڑواہٹ لیے ہوئے ہوں گے۔ اس کے الفاظ بدخواہی کی کڑواہٹ لیے ہوئے ہوں گے۔ دوسروں کی طرف سے اس کے خلاف کوئی سخت بات پیش آ جائے تو وہ فوراً مشتعل ہو جائے گا اور بدگوئی اور بدزبانی کا انداز اختیار کر لے گا۔

اچھا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان پھول کی طرح رہے، اور برا انسان وہ ہے جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ وہ لوگوں کے لیے کانٹا بنا ہوا ہو۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 184۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.