Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Takmeel-e-insaniyat

Urdu · 4 min

تکمیلِ انسانیت۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لوگوں سے معاملہ کیا، پھر ان پر ظلم نہیں کیا، اور ان سے بات کی اور جھوٹ نہیں بولا، اور ان سے وعدہ کیا، پھر ان کی خلاف ورزی نہیں کی، تو وہ ان میں سے ہے جس نے اپنی انسانیت کی تکمیل کر لی۔ روویانِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنَّه قال: "من عامل الناس فلم يظلمهم، وحدثهم فلم يكذبهم، ووعدهم فلم يخلفهم، فهو ممن كملت مروءته". ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 501۔

کامل انسان کون ہے؟ کامل انسان وہ ہے جس کے اندر انسانیت کی اعلیٰ صفات پائی جائیں، جو ہر تجربے میں اور ہر موقع پر یہ ثابت کرے کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک انسان ہے، نہ کہ انسان کی صورت میں صرف ایک حیوان۔ انسان کی پہچان اس کی صورت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا معاملہ ہے۔ جو آدمی دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اپنی انسانیت کو قائم رکھے، وہی سچا اور حقیقی انسان ہے۔

اس کے برعکس جو آدمی معاملے کے وقت ان امیدوں کو پورا نہ کر سکے جو ایک انسان سے بحیثیت انسان کی جاتی ہیں، تو وہ اپنی انسانیت کو ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا۔ اس سلسلے میں ایک انسانی صفت یہ ہے کہ آدمی جب کسی سے معاملہ کرے تو وہ اس کے ساتھ ظلم نہ کرے؛ وہ اپنے آپ کو اس سے روکے کہ وہ دوسروں کے ساتھ حق تلفی کرنے لگے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسی چیز کو لے جو عدل و انصاف کے اعتبار سے اس کا حق ہے، اور جو چیز امرِ واقعی کے اعتبار سے اس کا حق نہ ہو، اس کو وہ ہرگز نہ لے، خواہ بظاہر وہ اس کو لینے کی قدرت رکھتا ہو۔ اسی طرح انسان کی انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولے، وہ کبھی اپنی زبان سے ایسی بات نہ نکالے جو حقیقت کے اعتبار سے جھوٹ ہو۔

اسی طرح انسان کی ایک اعلیٰ صفت یہ ہے کہ جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کرے تو ہر حال میں وہ اس کو پورا کرے۔ کسی آدمی کے باکردار ہونے کی سب سے زیادہ یقینی پہچان یہی ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 183۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.