اصلاح کا جذبہ: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن مومن کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے تو اس کو درست کر دیتا ہے، یعنی المؤمن مرآةُ المؤمن، إذا رأى فيه عيبًا أصلحه. ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 381۔ انسان کی انسانیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا خیر خواہ ہو۔
ہر انسان دوسرے انسان کی بہتری چاہے۔ ہر انسان کا یہ حال ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا بھائی سمجھے۔ وہ ان کی ترقی پر خوش ہو۔ اور اگر کسی بھائی میں کوئی خرابی دیکھے تو وہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت اس کی اصلاح کے لیے مستعد ہو جائے۔
جس سماج میں لوگوں کا یہ حال ہو، وہاں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے آئینے کی مانند ہوگا۔ اگر آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوں تو وہ کسی کمی یا زیادتی کے بغیر آپ کے اصل چہرے کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح ایک سچے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جب بھی کسی دوسرے انسان کے اندر کوئی کمی یا خرابی دیکھتا ہے تو اس کا انسانی جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو اس سے باخبر کر دے۔ سچے انسان کے لیے ایسے معاملے میں چپ رہنا ممکن نہیں۔
آئینہ جب کسی کو اس کے چہرے کی خرابی دکھاتا ہے تو اس کے اندر کوئی برا جذبہ نہیں ہوتا۔ آئینے کا کام صرف خرابی کو بتانا ہے، نہ کہ خرابی والے انسان کو نیچا دکھانا۔ اسی طرح سچا انسان وہ ہے جو اپنے بھائی کو اس کی خرابی سے آگاہ کرے، تو اس کے دل میں بھائی کے خلاف نفرت یا حقارت کا کوئی جذبہ نہ ہو۔ ایسا کرتے ہوئے نہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور نہ دوسرے کو نیچا۔
اس کا مقصد صرف عیب کی اصلاح ہو، نہ کہ عیب کا اشتہار۔ آئینہ آدمی کے چہرے پر کوئی دھبہ بتائے تو آدمی کسی رکاوٹ کے بغیر فوراً اس کو قبول کر لیتا ہے۔ مگر جب انسان کسی آدمی کو اس کا عیب بتائے تو اکثر وہ اس کو اپنی عزت اور غیرت کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ یہ جذبہ آدمی کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ انسان کی نشاندہی کو بھی اسی طرح خوش دلی کے ساتھ قبول کر لے جس طرح وہ آئینے کی نشاندہی کو قبول کرتا ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.