Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Qudrat ke bavajud

Urdu · 3 min

قدرت کے باوجود۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کو اپنے دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو اسے معاف کرنے کو اس پر اپنی قدرت کا شکرانہ بنا لو۔ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا قَدِرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ فَاجْعَلْ الْعَفْوَ عَنْهُ شُكْرًا لِلْقُدْرَةِ عَلَيْهِ". ادب الدنیا و الدین للبصری، صفحہ 400۔

اخلاق کیا ہے؟ اخلاق اعلیٰ انسانی کردار کا دوسرا نام ہے۔ انسانی تعلقات میں کسی شخص سے جس اعلیٰ سلوک کی توقع کی جاتی ہے، اسی کو اخلاق کہتے ہیں۔ کسی انسان کی انسانیت کو پہچاننے کا معیار یہی اخلاق ہے۔

ایک شخص سے آپ کی دشمنی ہو گئی، پھر ایسے حالات پیش آئے کہ آپ نے اس کو زیر کر کے اس کے اوپر قابو پا لیا۔ اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس معاملے کو صرف انتقام کی نظر سے دیکھیں۔ آپ یہ سوچیں کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس سے بھرپور بدلہ لیا جائے اور اپنے انتقام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ مگر یہ نہایت چھوٹی سوچ ہے، اعلیٰ انسانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ سارے معاملے کو خدا کی نظر سے دیکھیں۔ آپ اپنی کامیابی کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی کامیابی سمجھیں۔ ایسی حالت میں آپ کے جذبات بالکل مختلف ہوں گے۔ اب آپ کے اندر شکر کا جذبہ ابھر آئے گا۔

اپنی کامیابی کے بعد شکر کی سب سے زیادہ اعلیٰ صورت آپ کو یہ دکھائی دے گی کہ آپ اپنے دشمن کو معاف کر دیں۔ قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کر دینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک زبردست قربانی کا معاملہ ہے۔ اس کے لیے باہر کے دشمن کو کچلنے کے بجائے خود اپنے نفس کو کچلنا پڑتا ہے۔

اپنے اندر بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قابو پانے کے بعد بھی اپنے دشمن کو معاف کر دے۔ معاف کرنا ایک نیکی ہے، اور قدرت کے باوجود معاف کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.