Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ehteraam-e-insaniyat

Urdu · 4 min

احترامِ انسانیت: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسان خدا کی عیال ہیں، خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اچھا انسان وہ ہے جو اس کی عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ روویانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أنه قال: "الخلق كلهم عيال الله، وأحب خلق الله تعالى إليه أحسنهم ضيعًا إلى عياله". ادب الدنیا و الدین للبصری 527: انسانی سماج کی بہتر تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام پایا جائے۔ لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں، لوگ ایک دوسرے کے قدرداں بنے ہوئے ہوں۔

احترام کا یہ جذبہ لوگوں کے اندر کس طرح پیدا کیا جائے، اس کا سب سے زیادہ مؤثر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرائی جائے کہ جس خالق نے مجھ کو پیدا کیا ہے، اسی خالق نے دوسرے انسانوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ تمام انسان گویا ایک خدا کا کنبہ ہیں۔ تمام انسان ایک خدا کے عیال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شعور آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اور دوسرے میں فرق نہ کرے۔

وہ دوسرے کو بھی اتنا ہی قابلِ قدر سمجھے جتنا وہ خود اپنے آپ کو قابلِ قدر سمجھ رہا ہے۔ کسی انسان کی تحقیر کرتے ہوئے وہ محسوس کرے کہ میں نے خدائی کنبے کے ایک فرد کی تحقیر کی۔ اسی طرح جب وہ کسی انسان کو عزت دے تو وہ اس سے یہ خوشی حاصل کرے کہ اس نے خدائی کنبے کے ایک فرد کو عزت و احترام دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں کہ وہ ایک ایسا عمل کرے جو اس کو یہ خوشی دے رہا ہو کہ میں نے خدائی کنبے کے ایک شخص کو عزت دی ہے۔

خدائی کنبے کے ایک شخص کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا ہے۔ یہ نظریہ ایک طرف آدمی کو خدا کی نظر میں قابلِ انعام بناتا ہے، اسی کے ساتھ اس کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس عمل کے دوران انسان کے اندر اعلیٰ احساسات جاگتے ہیں۔ وہ دوسرے کو عزت دے کر خود اپنے آپ کو ایک باعزت انسان بنا لیتا ہے۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 179۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.