دوہرا پن نہیں۔ خدا نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔ الاحزاب 4۔ اس کا مطلب ہے کہ خدا کو یہ پسند نہیں کہ آدمی کسی معاملے میں دوہرا انداز اختیار کرے۔
ڈبل اسٹینڈرڈ انسان پر خدا اپنی رحمت نہیں کرتا۔ سچا انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ جو کہے وہی کرے، اور جو اس کو کرنا ہے وہی بولے۔ بولنے کے وقت کچھ کہنا، اور کرنے کے وقت کچھ اور کرنا، یہ خدا پرست انسان کا طریقہ نہیں۔ ڈبل اسٹینڈرڈ انسان ہی کا دوسرا نام منافق ہے۔
ایسا انسان اپنی حقیقی شخصیت کو چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسی بات بولتا ہے جس کے بارے میں وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اسٹیج پر ایسی تقریریں کرتا ہے جس کو وہ گھر آتے ہی بھول جاتا ہے۔ ایسا انسان ایک ایکٹر ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک خدا پرست انسان۔
منافق اور مخلص انسان میں یہ فرق ہے کہ منافق انسان کا اندر اور باہر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اور مخلص انسان اندر اور باہر دونوں اعتبار سے ایک ہوتا ہے۔ منافق انسان کا مقصد لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے، اور مخلص انسان کا مقصد خدا کی خوشنودی حاصل کرنا۔ منافق انسان کے اندر فکری اور عملی تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ وہ حالات کو دیکھ کر اپنے فکر و عمل کو بدلتا رہتا ہے۔ مگر مخلص انسان کے یہاں تضاد نہیں ہوتا، کیونکہ مخلص انسان کی سوچ اور اس کا کردار اٹل خدائی اصولوں کے ماتحت ہوتا ہے، اور خدائی اصولوں میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔
اس دنیا میں مخلص انسان ہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ یہی وہ انسان ہے جو خدا کی ابدی رحمتوں کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 174۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.