شاکلے کا مسئلہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اور ہم جب انسان کے اوپر انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نا امید ہو جاتا ہے۔ کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلے پر عمل کر رہا ہے، پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ہدایت والے راستے پر ہے۔ بنی اسرائیل 83 تا 84 انسان کی سوچ متاثر سوچ یعنی کنڈیشنڈ تھنکنگ ہوتی ہے، مثلاً ایک آدمی دولت اور خوشحالی کے ماحول میں ہو تو اس کے اندر بے جا خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے سے باہر کسی شخص کو اہمیت نہیں دیتا اور نہ کسی اور کی بات پر زیادہ دھیان دے پاتا۔
اس کے برعکس جو آدمی مصیبت اور بدحالی کا شکار ہو تو وہ حوصلہ کھو دیتا ہے، وہ ہر ایک کے بارے میں بے اعتمادی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دونوں ہی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے اور نہ اپنے عمل کی بے لاگ منصوبہ بندی میں کامیاب ہوتے۔ یہی مثال تمام معاملات کے لیے ہے، مثلاً حدیبیہ کے وقت اہل مکہ نے سارے معاملے کو حال کے اعتبار سے دیکھا اور اہل ایمان نے مستقبل کے اعتبار سے۔ اہل مکہ قریبی احوال میں گم تھے اور اہل ایمان قریبی احوال سے اوپر اٹھ کر معاملے کو دور اندیشی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔
حال کے اعتبار سے دیکھنے کی وجہ سے اہل مکہ کو نظر آیا کہ 1400 مسلمان اگر مکے میں داخل ہو کر عمرہ کریں تو لوگوں کی نظر میں ان کا وقار ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ ان کے مخالف بن گئے۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے دیکھا کہ اگر امن کا معاہدہ کر کے وہ لوٹ جائیں تو اس کے نتیجے میں دعوت کے غیر معمولی مواقع کھل جائیں گے اور حال کی ظاہری شکست مستقبل کی عظیم فتح میں بدل جائے گی۔ دنیا میں آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے محدود دائرے سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ ذاتی تعصبات کے بجائے عمومی حقائق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ شاکلے انسانی میں گھر وہ شاکلے انسانی میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ شاکلے ربانی کی سطح تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 173۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.