بڑائی کا جذبہ۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے، اسی لیے قرآن میں شیطان کو طاغوت کہا گیا ہے۔ ابتدائے حیات میں خدا نے شیطان کو یہ حکم دیا کہ وہ آدم کا سجدہ کرے، مگر اس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد خدا اور شیطان میں جو مکالمہ ہوا، اس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا، جبکہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا۔
ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے، اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے، تجھے یہ حق نہیں کہ تو اس میں گھمنڈ کرے۔ پس نکل جا، یقیناً تو ذلیل ہے۔
ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کے لیے تو مجھے مہلت دے، جبکہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان پر آؤں گا، ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے، اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے۔
اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ خدا نے کہا کہ نکل یہاں سے، ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا، تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اعراف 12:18۔
انسان کی اصل کمزوری کیا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اندر اخلاقی برائیاں پیدا ہوتی ہیں؟ وہ یہ ہے کہ ہر آدمی صرف اپنے آپ کو بڑا دیکھنا چاہتا ہے۔ اب چونکہ انسانوں میں فرق ہے، یہاں خود فطرت کے قانون کے مطابق کوئی چھوٹا ہوتا ہے، کوئی بڑا۔ اس لیے آدمی جس کو اپنے سے بڑا دیکھتا ہے، اس کے خلاف وہ جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہ جلن آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ وہ اس کے پورے کردار کو منفی کردار بنا دیتی ہے۔ اپنے کو بڑا دیکھنے کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی کو برابر عمل پر ابھارتا رہے۔
یہ اس جذبے کا غلط استعمال ہے، کہ آدمی حسد اور جلن کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، اور پھر ہر قسم کی اخلاقی برائیوں کو اپنے لیے جائز کر لے۔ سچا انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب وہ کسی کو اپنے سے بڑا دیکھے، تو یہ واقعہ اس کے لیے عمل کا جذبہ بیدار کرنے کا سبب بن جائے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 172۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.