Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Eateraaf

Urdu · 4 min

اعتراف۔ کوئی آدمی جب ایک شخص کے فضل و کمال کا اعتراف نہ کرے تو اس کی وجہ ہمیشہ اس کا یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کسی اور کا اعتراف کرنے سے اس کا اپنا قد چھوٹا ہو جائے گا۔ مگر وہ بھول جاتا ہے کہ ایسا کر کے وہ اپنے آپ کو زیادہ بڑے اندیشے میں مبتلا کر رہا ہے، وہ یہ کہ خدا کے سامنے اس کا قد ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو جائے۔ ایک شخص کو اگر کوئی فضل و کمال حاصل ہے تو وہ اس کی اپنی ایجاد نہیں ہے، وہ براہِ راست خدا کا عطیہ ہے۔

اس لیے اس کا اعتراف کرنا خدا کا اعتراف کرنا ہے، اور اس کا اعتراف نہ کرنا خدا کا اعتراف نہ کرنا۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ عدمِ اعتراف کی روش اختیار کرتے ہوئے وہ خدا سے ڈرے۔ وہ اس کو انسان کا معاملہ نہ سمجھتے ہوئے، وہ اس کو خدا کا معاملہ سمجھے۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے جو بے حد اہمیت رکھتا ہے، وہ یہ کہ دوسرے کا اعتراف کرنا سادہ طور پر صرف دوسرے کا اعتراف کرنا نہیں ہے، وہ خود اپنی شخصیت کے ارتقاء کا معاملہ ہے۔

آدمی دوسرے شخص کے فضل کا اعتراف کر کے اپنی انسانیت کو بڑھاتا ہے، اور دوسرے شخص کا اعتراف نہ کر کے اپنی شخصیت کو انسانی اعتبار سے مجروح کر لیتا ہے۔ اعتراف اور بے اعترافی کا معاملہ مزید آگے بڑھ کر پورے سماج سے جڑا ہوا ہے۔ جب ایک آدمی دوسرے شخص کا اعتراف کرے تو وہ سماج میں اعلیٰ انسانی قدروں کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ دوسرے کی حیثیت کا اعتراف نہ کرے تو سماج میں ناقدری اور بے اعترافی کی روایات فروغ پائیں گی۔

اعتراف اور بے اعترافی کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اعتراف کرنے والا پورے سماج میں قدردانی کی اعلیٰ روایت قائم کرتا ہے۔ اس کے برعکس اعتراف نہ کرنے والا پورے سماج کو ناقدری کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ بے اعترافی اگرچہ ایک شخص کرتا ہے، مگر اس کا اثر پورے سماج پر پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بے اعترافی کے معاملے میں آدمی کو آخری حد تک محتاط رہنا چاہیے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 171۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.