Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Sulh behtar hai

Urdu · 4 min

صلح بہتر ہے۔ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ نزاع کی صورت میں دونوں فریق آپس میں صلح کر لیا کریں، اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسانوں کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ النساء 128 یہ اصول انسانی زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے، خواہ اس کا تعلق گھر کے معاملے سے ہو یا باہر کے معاملے سے، خواہ وہ دو آدمیوں کا مسئلہ ہو یا پوری جماعت کا مسئلہ، خواہ وہ قومی ہو یا بین الاقوامی۔

اجتماعی زندگی کے تمام نزاعی معاملات کا یہی واحد حل ہے۔ صلح کی قابلِ عمل صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ معاملے کے دونوں فریق "اسٹیٹس" کو، یعنی حالتِ موجودہ پر، راضی ہو جائیں۔ اس میں واحد رکاوٹ حرص ہے۔ معاملے کا ایک یا دوسرا فریق حرص میں پڑ کر "اسٹیٹس" کو توڑنا چاہتا ہے۔

بروقت ملے ہوئے پر راضی نہ ہو کر وہ مزید کو حاصل کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے فطری طور پر دوسرا فریق آمادہ نہیں ہوتا۔ بس یہی مزاج صلح میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اور پھر دونوں فریق انتہائی بے فائدہ طور پر لڑائی کو جاری رکھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو بھی کھو دیتے ہیں۔ صلح کو اکثر لوگ نزاعی معاملے کی سطح پر جانچتے ہیں، حالانکہ یہ ایک ثانوی درجے کی چیز ہے۔ زیادہ اہم اور زیادہ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ صلح آدمی کے لیے نئے عمل کا دروازہ کھولتی ہے۔

صلح کے بعد آدمی کو اپنا سفر جاری رکھنے کا راستہ مل جاتا ہے۔ نزاع کی حالت سفرِ حیات کو روکتی ہے، اور صلح کا معاملہ زندگی کے رکے ہوئے سفر کو ازسرِ نو جاری کر دیتا ہے۔ صلح کوئی پسپائی نہیں۔ صلح دراصل "پریکٹیکل وزڈم" یعنی عملی حکمت کا دوسرا نام ہے۔

صلح حقیقتِ واقعے کا اعتراف ہے۔ صلح کا مطلب جذباتی مواقع پر غیر جذباتی فیصلہ لینا ہے۔ صلح یہ ہے کہ نزاعی معاملات میں آدمی انانیت کا شکار نہ ہو۔ وہ کسی چیز کو اپنے لیے "پریسٹیج ایشو" یعنی ساکھ کا مسئلہ نہ بنائے۔

وہ ہمیشہ تدبر اور انضباط کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ جذباتیت اور اشتعال کا۔ ٹکراؤ عمل کا دروازہ بند کرنے والا ہے، اور صلح عمل کا دروازہ کھولنے والا۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 170۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.