"بھلائیوں میں سبقت" قرآن البقرہ 148 میں ہے کہ ہر ایک کے لیے ایک رخ ہے، جدھر وہ منہ کرتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف دوڑو۔ وَلِكُلِّنْ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ یہ آیت قبلے کے مسئلے کے ذیل میں آئی ہے، مگر قرآنی اسلوب کے مطابق اس میں ایک بنیادی بات بتا دی گئی ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے: "فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ" کا لفظ سیاق کے اعتبار سے خصوصی مفہوم رکھتے ہوئے، وسیع تر پہلو کے اعتبار سے ایک عمومی حکم ہے جو ہر انسان کو ہر لمحہ ایک بنیادی ہدایت دے رہا ہے۔ زندگی مسابقت کے اصول پر مبنی ہے؛ انسان کے اندر فطری طور پر یہ جذبہ موجود ہے کہ وہ آگے بڑھے اور ترقی کرے۔
اسی فطری جذبے کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ ہر آدمی دوسروں سے آگے بڑھنے کے لیے اپنی پوری طاقت خرچ کر رہا ہے۔ مسابقت کا یہ جذبہ عام طور پر خواہش کے رخ پر چل پڑتا ہے؛ ہر انسان کے اندر جس طرح مسابقت کا جذبہ رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر ایک کے اندر مادی خواہشیں بھی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہیں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مادی خواہش کا زور آدمی کے جذبۂ مسابقت کو ایک رخ پر دوڑا دیتا ہے۔
دنیا میں بیشتر لوگ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی اندرونی خواہش نے ان کے مسابقت کے جذبے کو مال کے رخ پر موڑ دیا۔ مگر قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی مسابقت کے جذبے کو خیر کے رخ پر سرگرم کرے۔ وہ اپنی مادی خواہشوں کو اپنی دوڑ کا نشانہ بنانے کے بجائے اس چیز کو نشانہ بنائے جس کو خدا نے خیر قرار دیا ہے۔
خیر سے مراد علم بھی ہے، جو آدمی کی ذہنی اور فکری ترقی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح اس سے دعوتِ حق بھی مراد ہو سکتی ہے، جو کام کا اتنا وسیع میدان ہے جس کی حدیں کہیں ختم نہیں ہوتیں۔ اسی طرح بھلائیوں میں مسابقت کا ایک میدان وہ بھی ہے جس کو خدمتِ خلق کہا جاتا ہے۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 169۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.