لوگوں کی مدد کرنا۔ قرآن میں ایمان لانے والے کی صفات یہ بیان کی گئی ہیں کہ وہ خدا کی محبت میں اپنا مال دے، رشتہ داروں کو، اور یتیموں کو، اور محتاجوں کو، اور مسافروں کو، اور مانگنے والوں کو، اور گردنیں چھڑانے میں۔ وَآتَ الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِ الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ. البقرہ 177۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ کسی آدمی کے اندر جب مومنانہ شخصیت پیدا ہوتی ہے تو خاندان اور سماج کے دائرے میں اس کا اظہار کن کن صورتوں میں ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کی مالی مدد کرنے لگتا ہے۔ رشتہ داروں سے چونکہ ہر وقت تعلق ہوتا ہے، اس لیے اکثر ان سے طرح طرح کی شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ پھر یہ کہ رشتہ داروں سے بظاہر یہ امید نہیں ہوتی کہ وہ شکر گزاری یا نیاز مندی کی صورت میں کوئی بدلہ دیں گے۔
اس لیے اسلام میں بہت زیادہ ابھارا گیا ہے کہ آدمی اپنے ضرورت مند رشتہ داروں کی مالی مدد کرے۔ اسی طرح یتیموں اور محتاجوں کی مدد کرنا مومن کے لیے بہت محبوب ہو جاتا ہے۔ اس کا درد مند دل اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ وہ کمزوروں کو دیکھ کر انہیں حقیر نہ سمجھے، بلکہ ان کی مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ یہی معاملہ مسافر کا ہے۔
مسافر اپنے وطن میں جیسا بھی ہو، مگر جب وہ اپنے گھر سے دور سفر میں ہوتا ہے تو وہ بھی مختلف پہلوؤں سے ضرورت مند بن جاتا ہے۔ یہاں مومن کا ایمانی احساس متحرک ہو جاتا ہے۔ وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتا جب تک مسافر کی ضرورت پوری کر کے اسے فارغ نہ کر دے۔ اسی طرح جو لوگ کسی وجہ سے مسائل کے درمیان گھر جائیں، جو کسی سماجی روایت کی بندش میں پھنس کر رہ گئے ہوں، ان کے پاس خود اتنا مال نہ ہو کہ وہ اس کو دے کر وہاں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔
ایسے لوگوں کو مال دے کر انہیں حالات کی گرفت سے آزاد کرانا بھی مومن کی انسانی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 168۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.