خواہش پرستی نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 38 میں حضرت داؤد سے خطاب کرتے ہوئے ایک اصولی بات فرمائی گئی ہے۔ فرمایا کہ تم خواہش کی پیروی نہ کرو، وہ تم کو خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ سورہ صاد، آیت 26۔
خدا نے انسان کے لیے ایک درست راستہ مقرر کیا، اور پھر ہر انسان کی فطرت میں اسی کی تمیز رکھ دی۔ انسان اگر اپنی فطرت کی اس خاموش رہنمائی کو سمجھے اور اس کی پیروی کرے تو وہ کبھی بے بے راہ نہ ہو۔ وہ زندگی کی شاہراہ پر سیدھا چلتا رہے، یہاں تک کہ وہ آخری منزل پر پہنچ جائے۔ فطرت کی اس شاہراہ سے بھٹکانے والی چیز صرف ایک ہے، اور وہ انسان کی خود اپنی خواہش ہے۔
یہ خواہش زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو بہکاتی ہے۔ عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو خواہش کے اثر میں نہ آنے دے۔ جو آدمی اپنی خواہش سے مطلوب— جو آدمی اپنی خواہش سے مغلوب ہو گیا، وہ لازماً فطرت کے سیدھے راستے سے ہٹ جائے گا۔ اور جو آدمی فطرت کی راہ سے ہٹ جائے، اس کے لیے تباہی کے سوا اور کوئی انجام نہیں۔
آدمی کی خواہش اس کو مختلف طریقوں سے بھٹکاتی ہے۔ کبھی اس کو ظاہری رونقوں کے فریب میں الجھا کر، گہری حقیقتوں سے دور کر دیتی ہے۔ کبھی وقتی فائدے کی خاطر اس کو اس راہ سے ہٹا دیتی ہے جو مستقل فائدے کی طرف جانے والی ہے۔ کبھی کسی معاملے کو غیرت و حمیت کا سوال بنا کر، آدمی کو مشتعل کر دیتی ہے۔
وہ انجام سے بے پرواہ ہو کر لڑنا بھڑنا شروع کر دیتا ہے، جس کا ایک طرفہ نقصان سب سے زیادہ خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آدمی کی خواہش آدمی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جو شخص کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خواہش کو اپنے کنٹرول میں رکھے، نہ یہ کہ خود خواہش کے کنٹرول میں آ جائے۔ خواہش پرستی کے مقابلے میں دوسرا طریقہ اصول پسندی کا طریقہ ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ خواہشوں کا شکار نہ بنے، بلکہ وہ اعلیٰ انسانی اصولوں کی پیروی کرے۔ اس کا ہر رویہ سوچے سمجھے اصول کے تحت متعین ہوتا ہو، نہ کہ محض نفس اور خواہش کی پیروی کے تحت۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 175۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.