بہتر انسان حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي. الترمذی، کتاب المناقب۔
انسان کا سب سے پہلا عملی امتحان خود اپنے گھر کے اندر ہوتا ہے۔ ہر صبح اور ہر شام گھر کے اندر ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن میں وہ کوئی رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس طرح ہر روز گھر کے اندر یہ جانچ ہوتی رہتی ہے کہ آدمی اپنے بول میں کیسا ہے اور اپنے عمل میں کیسا؟ آدمی اگر اچھا ہے تو وہ گھر کے معاملات میں اچھا ثابت ہوگا، اور اگر وہ برا ہے تو اس کی برائی بھی گھر کے اندر چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔
کوئی آدمی باہر کی زندگی میں مصنوعی طور پر اچھی اچھی باتیں کر سکتا ہے، وہ اچھا نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے کو اچھا بنا کر پیش کر سکتا ہے۔ لیکن گھر کے اندر کوئی آدمی اپنی شخصیت کو چھپا نہیں سکتا۔ گھر ایک بہترین آئینہ ہے جس میں ہر آدمی کی حقیقی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس طرح گھر ہر آدمی کے لیے ایک تربیت گاہ بن گیا ہے۔
اگر کوئی آدمی اپنے گھر کے اندر اچھا انسان بننے میں کامیاب ہو جائے تو باہر آ کر بھی وہ اچھا انسان ثابت ہوگا۔ گھر کسی سماج کی ابتدائی یونٹ ہے۔ بہت سے گھروں کے ملنے سے ایک سماج بنتا ہے۔ اس طرح گھر کی اصلاح پورے سماج کی اصلاح ہے، اور گھر کا بگاڑ پورے سماج کا بگاڑ۔
گھر کے اندر وہ تمام معاملات چھوٹے پیمانے پر پیش آتے ہیں جو گھر کے باہر بڑے پیمانے پر پیش آتے ہیں۔ ہر گھر نہ صرف سماج کا ایک حصہ ہے، بلکہ وہ سماجی زندگی کا ایک چھوٹا نمونہ بھی ہے۔ آدمی کو سماج میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ ہر ایک کی عزت کرے، وہ ہر ایک کا خیر خواہ ہو، وہ لوگوں سے نرم انداز میں خطاب کرے، وہ لوگوں کے لیے رکاوٹ بنے بغیر اپنا کام کرے۔ اس کی نظر اپنے حقوق پر کم ہو اور اپنے فرائض پر زیادہ۔
وہ خدمت لینے کے بجائے خدمت کرنے کا مزاج رکھتا ہو۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.