انفرادی حکم، اجتماعی حکم۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تم کو امین بنائے، تم اس کی امانت ادا کرو، اور جو آدمی تمہارے ساتھ خیانت کرے، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ الدل امانة الی من اعتمنک، ولا تخن من خانک۔ مشکات المصابیح، جلد 2، صفحہ 885۔
دوسری روایت میں عمر ابن عبثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، دوسری روایت میں عمر ابن عبثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس کے درمیان اور کسی قوم کے درمیان معاہدہ ہو تو وہ نہ اس کی کوئی گرہ کھولے اور نہ اس کو باندھے، یہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہو جائے، یا پھر اس کی طرف معاہدے کو برابری کے ساتھ پھینک دے۔ من كان بينه وبين قوم عهد فلا يحلن عهدا ولا يشدنه حتی يمضی عمدہ او یمبد الیہم علی سوا. مشکات المصابیح، جلد 2، صفحہ 1165۔ ان دونوں حدیثوں میں ایک ہی بات کہی گئی ہے، البتہ پہلی حدیث کا تعلق فرد کے معاملات سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق قوم کے معاملات سے۔
ایک میں انفرادی نوعیت کا حکم ہے اور دوسری میں اجتماعی نوعیت کا حکم۔ شریعت میں کچھ احکام انفرادی احکام کہے جاتے ہیں اور کچھ احکام اجتماعی احکام۔ یہ دونوں احکام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے ایک ہوتے ہیں، البتہ ان میں دائرہ عمل کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ مثلاً مذکورہ دونوں حکموں کی اسپرٹ ایک ہے، یعنی خیانت کرنے والے کے ساتھ خیانت نہ کرنا۔
فرد کا دائرہ فرد کا دائرہ اختیار اپنے شخصی معاملات تک محدود ہے، اس لیے وہ اپنے شخصی دائرے میں اس اسپرٹ کی تعمیل کرے گا۔ قوم کا دائرہ اختیار اجتماعی اور بین الاقوامی معاملات تک ہے، اس لیے قوم یا قوم کے ذمہ دار اس اسپرٹ کی تعمیل وسیع تر دائرے میں کریں گے۔ مومن وہ ہے جس کا کردار اس حد تک بااصول ہو کہ اس کے بارے میں تجربے سے پہلے پیشن گوئی کی جا سکے۔ یہ قابلِ پیشن گوئی کردار ہی اہل ایمان کی اصل اور حقیقی شناخت ہے۔
اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 162۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.