Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Taqwa,Akhlaaq

Urdu · 4 min

تقویٰ، اخلاق۔ آدمی دو ذمہ داریوں کے درمیان ہے: خدا اور انسان۔ خدا کے مقابلے میں آدمی سے تقویٰ مطلوب ہے، اور انسان کے مقابلے میں اخلاق۔ مگر یہ دونوں ہی چیزیں کسی کو عظیمت کی سطح پر حاصل ہوتی ہیں، رخصت کی سطح پر ان میں سے کوئی چیز کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔

خدا کے مقابلے میں آدمی کو صاحبِ تقویٰ بننا ہے، یعنی ڈر کی حد تک خدا کی عظمتوں کو محسوس کرنے والا۔ اس قسم کا احساس کسی شخص کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ کبھی قانونی حد پر نہیں رک سکتا، وہ لازماً قانون کی حد سے آگے تک پہنچ جائے گا۔ وہ صرف عامل نہیں بنے گا بلکہ محتاط بن جائے گا۔ وہ کسی محدود معنی میں متقی نہیں بنے گا، بلکہ وہ کلی معنی میں متقی بننے کی کوشش کرے گا۔

تقویٰ کسی حد بندی کو نہیں جانتا۔ یہی بات ہے جو حدیث میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے: «أَنْ عَطِيَّةِ السَّعَادِيِّ قَالَ» قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذْرًا مِمَّا بِهِ بَأْسٌ» الترمذی و ابن ماجہ، تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 40۔ عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بندہ متقیوں کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ ایسی چیزوں کو بھی چھوڑ دے جس میں حرج نہیں ہے، اس اندیشے سے کہ شاید اس میں حرج ہو۔ " انسان کے مقابلے میں آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ صاحبِ اخلاق بنے۔

جس آدمی کے اندر اخلاقی احساس پیدا ہو جائے، وہ کبھی برابر کی سطح پر نہیں رکے گا، یعنی وہ ایسا نہیں کرے گا کہ دوسرے لوگ خوش اخلاقی برتیں تو وہ بھی ان کے ساتھ خوش اخلاق بن جائے، اور دوسرے لوگ بد اخلاقی برتیں تو وہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنے لگے۔ سچا صاحبِ اخلاق ایک طرفہ اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے۔ حدیث میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَاعْفُ عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص تم سے کٹے، تم اس سے جڑو؛ جو شخص تم پر ظلم کرے، تم اس کو معاف کر دو؛ اور جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ " اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 161۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.