سمجھ داری۔ الدیلمی نے حضرت انس کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "المؤمن كيّس فطنٌ" یعنی مومن دانا اور سمجھ دار ہوتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ "اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله" یعنی مومن کی ہوشیاری سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہوشیاری اور سمجھ داری کوئی نسلی یا گروہی صفت ہے جو ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے آپ کو مومن کہیں۔
یہ دراصل کسی گروہ کی خصوصیت نہیں، بلکہ ایمان کی خصوصیت ہے۔ جس آدمی کے اندر حقیقی ایمان پیدا ہو جائے، اس کے اندر وہی صفت آ جائے گی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ سمجھ داری کیا ہے؟ سمجھ داری کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ صفت پائی جائے جو ایک دعا کے اندر ان الفاظ میں ملتی ہے: "وَأَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ" یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
اس کا مطلب چیزوں کو ان کی اصل صورت میں، یعنی as it is، دیکھنا ہے۔ ایمان آدمی کے اندر یہی صفت پیدا کرتا ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کی اصل حالت میں دیکھنے لگے، اس کی رائے اور اس کے فیصلے ہمیشہ درست ہوں گے۔ حقیقی ایمان آدمی کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔
وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ذاتی رجحانات سے الگ ہو کر رائے قائم کرنے لگے۔ اور آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا ہو جانے ہی کا دوسرا نام ہوشیاری ہے۔ ایک شخص جب کسی کو حسد اور نفرت کی نظر سے دیکھے، تو اس کی خوبیاں اس کو دکھائی نہیں دیں گی۔ وہ اس کو سراپا برائی نظر آئے گا۔
اس کے برعکس، ایک آدمی کسی کو محبت اور عقیدت کی نظر سے دیکھنے لگے، تو اس کی برائیاں اس کی نظر سے اوجھل ہو جائیں گی۔ وہ اس کو سراپا اچھائی کی صورت میں دکھائی دے گا۔ اسی طرح غصہ، انتقام اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ جو رائے قائم کی جائے، وہ کبھی معتدل رائے نہیں ہوتی۔ کسی خاص کیفیت کا آدمی کے اوپر غلبہ ہو جائے، تو وہ اس کے بارے میں درست رائے قائم کرنے سے قاصر رہے گا۔
اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.