دو انسان۔ پانی پانی ہے، لیکن گرم ہونے کے بعد وہ آگ بن جاتا ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ ایک ٹھنڈا سیال ہے، اور انتہائی حالت میں کھولتا ہوا لاوا۔ یہ پانی کے لیے قدرت کا قانون ہے۔
یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان اپنی ابتدائی حالت میں ایک بے ضرر انسان ہوتا ہے، لیکن اگر انسان کی انا کو چھیڑ دیا جائے تو وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ضرر رساں بن جائے گا۔ انسان اپنی معتدل حالت میں ہو تو وہ فطرت کا ایک دلکش پھول ہے، مگر انسان کے اندر جب غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو اس وقت وہ ایک اور انسان ہوتا ہے۔ اس وقت وہ تمام حیوانوں سے زیادہ خونخوار حیوان بن جاتا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے اندر نفس لوامہ رکھ دیا گیا ہے۔ نفس لوامہ سے مراد ضمیر ہے۔ ابتدائی طور پر آدمی اپنے نفس لوامہ پر ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی کی فطرت اس کی رہنما ہوتی ہے۔
وہ عین اپنی اندرونی آواز کے تحت شرافت اور انسانیت پر قائم رہتا ہے۔ انسان کی دوسری صفت وہ ہے جس کو قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے۔ اس سے مراد انانیت ہے۔ آدمی کا نفس امارہ یا اس کی انا عام حالت میں سوئی ہوئی رہتی ہے۔
اس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن جب نفس امارہ پر زد پڑے تو وہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت وہ انتقامی جذبات میں اندھا ہو جاتا ہے۔ اب وہ انتہائی حد تک نقصان رساں بن جاتا ہے۔
انسان کی یہ دونوں صفتیں خود خالق نے پیدا کی ہیں، اس لیے ان کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ اعراض کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچائیں۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم مقابل کے انسان کی نفس لوامہ کو جگائیں، اور اس کی نفس امارہ کو خوابیدہ حالت میں پڑا رہنے دیں۔ اسلام کے مطابق کامیابی اور ناکامی دونوں آدمی کے اپنے اختیار میں ہیں۔
آدمی دوسرے فریق کے اندر جس قسم کی نفسیات جگائے گا، وہی اس کے حصے میں آئے گی۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 159۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.