Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Amaanat ada karo

Urdu · 4 min

امانت ادا کرو۔ عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "الدّل أمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك." رواہ الترمذی، وابو داؤد، ودالوی۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے، اس کی امانت ادا کرو، اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے، اس کے ساتھ تم خیانت نہ کرو۔ " امانت ادا کرنا بلاشبہ ایک اہم ترین اسلامی حکم ہے۔

المؤمنون 8 اگر کسی شخص کے پاس کسی دوسرے کی کوئی امانت ہو، تو اس کو اس وقت تک بے چین رہنا چاہیے جب تک وہ اس کو ادا نہ کر لے۔ امانت کا تعلق کسی مخصوص چیز سے نہیں، اس کا تعلق تمام چیزوں سے ہے۔ ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر البحرالمحيط سورہ المؤمنون میں لکھا ہے کہ امانت کے حکم میں قول اور فعل اور عقیدے سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں داخل ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک ایسی بات ہے جو کسی کے حق میں مفید ہو سکتی ہے، تو وہ گویا دوسرے شخص کی امانت ہے جو آپ کے پاس محفوظ ہے۔

اس بات کو اس شخص تک پہنچانا آپ کا فرض ہے۔ اگر آپ کا ایک قول کسی کو بے عزت ہونے سے بچا سکتا ہے، تو وہ قول دوسرے آدمی کی امانت ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس قول کا اعلان کریں تاکہ آپ کے بھائی کی عزت اور مال محفوظ ہو سکے۔ ولا تخن من خانك کی نصیحت بے حد اہم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک آدمی کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ دوسرے آدمی کی روش سے قطع نظر کر کے اس کی امانت ادا کرے گا، اس وقت تک وہ امانت کی ادائیگی کے امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ موجودہ دنیا میں اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے شکایت ہو جاتی ہے۔ یہ شکایت صحیح بھی ہوتی ہے اور غلط بھی۔ اگر آدمی شکایتوں سے اثر لے، تو وہ کبھی بہتر اخلاق پر عمل نہیں کر سکتا۔

اس دنیا میں خیانت کے باوجود امانت کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں سے برے سلوک کا تجربہ ہونے کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص باوجود کے اس اصول کو نہ مانے، وہ اس دنیا میں کبھی صحیح اسلامی روش پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 158۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.