قانونِ فطرت۔ روى الإمام مسلم في صحيحه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من يسّر على معسرٍ في الدنيا يسّر الله عليه في الدنيا والآخرة". حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص دنیا میں کسی تنگ حال کو آسانی دے گا تو اللہ اس کو دنیا اور آخرت میں آسانی دے گا"۔ روى الإمام البخاري في صحيحه عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته".
وفي رواية قال عليه الصلاة والسلام: "والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه". حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا"۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ بندے کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرے۔ جو آدمی دوسروں کی مدد کرے اور ان کی مشکل میں ان کے کام آئے، اس کو اس خدائی نظام کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے جو خدا نے فطرت کی سطح پر قائم کر رکھا ہے۔
اس حمایت کی بنا پر وہ آدمی کامیاب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس نظامِ فطرت کا یہ اٹل قانون ہے کہ جو شخص لوگوں کے کام آئے، وہ لوگوں کی نظر میں ان کا محبوب ہو جائے، لوگوں کے دل اس کے لیے جھک جائیں، اس کو ہر ایک کی طرف سے عزت اور احترام حاصل ہو۔ اور جس شخص کو اپنے ماحول میں اس قسم کا باعزت مقام حاصل ہو جائے، اس کا کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ دوسروں کی مدد کرنا دوسروں کے لیے نفع بخش بننا ہے، اور نفع بخشی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے۔
لوگوں کے لیے نافع بننے والا لوگوں کے درمیان سردار کا درجہ پا لیتا ہے۔ کسی مطالبے کے بغیر لوگ اضافے کے ساتھ اس کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ دینے والا ہوتا ہے اور لوگ لینے والے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ دینے والا لینے والوں کے اوپر سرداری کا مقام حاصل کر لے۔
فطرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ آدمی دے کر پائے، وہ دوسروں کو راحت پہنچا کر خود اپنے لیے راحت حاصل کرے۔ اس قانون میں کوئی استثنا نہیں۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.