نفسِ مطمئن۔ قرآن میں کامیاب انسان کو "النفس المطمئنة" کہا گیا ہے، یعنی مطمئن روح، peaceful soul۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو جیے تو حالتِ اطمینان میں جیے، اور اس پر موت آئے تو حالتِ اطمینان پر موت آئے۔ وہ ہر حال میں مطمئن زندگی گزارنے والا ہو۔
قرآن میں اس کے دو معیار بتائے گئے ہیں: ایک یہ کہ خدا جب اس کو آسودگی اور فراوانی عطا فرمائے، تو وہ فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، بلکہ متوازن انسان بن کر دنیا میں رہے۔ دوسرا معیار یہ ہے کہ خدا جب اس کو معاشی تنگی میں مبتلا کرے، تو وہ مایوسی اور دل شکستگی کا شکار نہ ہو، بلکہ وہ صبر و شکر کے ساتھ اس کا استقبال کرے۔ دنیا کی زندگی میں حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے؛ یہاں کبھی فراخی آتی ہے، کبھی تنگی، کبھی مشکل پیش آتی ہے، اور کبھی آسانی۔ کبھی موافق صورتحال سے سابقہ پیش آتا ہے، اور کبھی ناموافق صورتحال سے۔
یہ مختلف حالات امتحان کے لیے ہوتے ہیں؛ جو انسان ان حالات میں مثبت ذہن پر قائم رہے، وہ اللہ کی نظر میں کامیاب ٹھہرا۔ اور منفی ذہنیت کا شکار ہو جائے، وہ ناکام یاب ہو گیا۔ نفسِ مطمئن کا مطلب شاداں و فرحاں ہونا نہیں ہے۔ اس دنیا میں شاداں و فرحاں صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو سطحی طرزِ فکر کا حامل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ مادی آسائش کی کوئی بھی مقدار، اعلیٰ انسان کو مطمئن نہیں کرتی۔ ہر مادی آسائش، اعلیٰ ذہن والے انسان کو اپنی ذہنی سطح سے کمتر محسوس ہوتی ہے، اس لیے وہ اس پر مطمئن بھی نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ آیت میں اطمینان کا تعلق دنیاوی چیزوں سے نہیں ہے، بلکہ خدا سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے جس آزمائش میں بھی ڈالا جائے، خواہ وہ فراوانی کی آزمائش ہو یا تنگی کی آزمائش، ہر حال میں وہ راضی بر رضا رہے۔
کوئی بھی تجربہ خدا کی نسبت سے اس کے اطمینانِ قلب کو برہم نہ کرے۔ سکھ کی حالت ہو یا دکھ کی حالت، ہر حال میں خدا کے ساتھ اس کا روحانی تعلق یکساں طور پر برقرار رہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 156۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.